جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر میں 510 مقامات پر دھرنے دیے جائیں گے تاکہ حکومت پر حالیہ ٹیکسوں کو واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
یہ احتجاجی تحریک حکومت اور جماعتِ اسلامی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نقطہ عروج ہے۔ پارٹی کا ہدف شہروں کے اہم ترین چوک اور کاروباری مراکز ہیں، جہاں دھرنوں کے ذریعے ٹریفک اور نظامِ زندگی کو معطل کرنے کی حکمتِ عملی تیار کی گئی ہے۔
اسلام آباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اب بہت ہو چکا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے اور اب مطالبات منوانے کے لیے سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
اس تنازع کی بنیادی وجہ حکومت کا وہ مالیاتی ہدف ہے جو آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پٹرولیم لیوی کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ معاشی استحکام اور بیل آؤٹ پیکج کے لیے یہ ٹیکس ناگزیر ہیں، جبکہ جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی چکی میں پسے عوام پر مزید بوجھ ڈالنا کسی صورت قبول نہیں۔
احتجاج کی یہ مہم اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ 510 الگ الگ مقامات پر دھرنے دے کر جماعتِ اسلامی انتظامیہ کی توجہ منتشر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے وسائل کو بیک وقت کئی اضلاع میں الجھانا ہے تاکہ کسی ایک مقام پر طاقت کا استعمال کر کے احتجاج کو کچلا نہ جا سکے۔
چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کی جانب سے اس احتجاج کو حمایت مل رہی ہے، کیونکہ ٹرانسپورٹ کے بھاری اخراجات نے ان کے کاروبار کو جمود کا شکار کر دیا ہے۔ تاہم، تاجر برادری کا ایک حلقہ طویل دھرنوں کے باعث معاشی نقصانات کے خدشے سے بھی دوچار ہے۔
حکومت نے تاحال اس احتجاجی شیڈول پر کوئی باضابطہ ردِعمل نہیں دیا، تاہم حکومتی وزراء ماضی میں ایسی تحریکوں کو محض سیاسی مفادات کا کھیل قرار دیتے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت عوامی غیض و غضب کو دیکھتے ہوئے پٹرولیم لیوی میں کسی ریلیف کا اعلان کرتی ہے یا پھر سڑکوں پر ایک طویل محاذ آرائی کا سامنا کرے گی۔
جماعتِ اسلامی نے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے کا عندیہ دیا ہے۔ آنے والے دن فیصلہ کریں گے کہ یہ احتجاجی مہم حکومت کی پالیسیوں کو تبدیل کر پاتی ہے یا انتظامی رکاوٹوں کی نذر ہو جاتی ہے۔
