بحر الکاہل کے ساحلوں پر سمندری پرندوں کی غیر معمولی اموات نے ماہرینِ ماحولیات کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ پیرو سے لے کر کیلیفورنیا تک ساحلی پٹی پر بکھری پرندوں کی لاشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سمندری حیات ایک بڑے بحران کی زد میں ہے۔ تحقیق کے مطابق، اس تباہی کے پیچھے موسمیاتی تبدیلی ‘ایل نینو’ کا ہاتھ ہے۔
سمندر کا درجہ حرارت بڑھنے سے پانی کی اوپری سطح پر موجود غذائی سلسلہ درہم برہم ہو گیا ہے۔ سرد پانی کی مچھلیاں—جو ان پرندوں کی خوراک کا بنیادی ذریعہ ہیں—اب گہرے اور ٹھنڈے پانیوں کی طرف منتقل ہو چکی ہیں۔ پرندے اتنی گہرائی میں غوطہ لگانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، جس کے نتیجے میں وہ بھوک سے نڈھال ہو کر دم توڑ رہے ہیں۔
ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر ایلینا ورگاس کا کہنا ہے کہ "ہم صرف چند پرندوں کے مرنے کی بات نہیں کر رہے، بلکہ پوری کی پوری نسلیں ختم ہو رہی ہیں۔ کچھ کالونیوں میں افزائشِ نسل کا عمل مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔”
اس صورتحال کا اثر صرف پرندوں تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ پرندے سمندری صحت کے پیمانے ہیں۔ ان کی تعداد میں کمی اس بات کا اشارہ ہے کہ سمندری ماحولیاتی نظام کمزور پڑ رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر مقامی ماہی گیروں اور ان لاکھوں لوگوں پر پڑے گا جو اپنی خوراک کے لیے سمندر پر انحصار کرتے ہیں۔
امریکی محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار تصدیق کرتے ہیں کہ بحر الکاہل کے استوائی خطے میں سطح کا درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ کوئی وقتی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک طویل دورانیے کا خلل ہے۔ پیرو کے ساحلوں پر، جہاں کبھی پرندوں کی چہل پہل ہوا کرتی تھی، اب خاموشی ہے، جو اس شدید گرمی کے تباہ کن اثرات کی عکاس ہے۔
اگرچہ ‘ایل نینو’ ایک قدرتی موسمی چکر ہے، لیکن موجودہ شدت نے پرندوں کے لیے بچاؤ کی تمام راہیں بند کر دی ہیں۔ تاریخی طور پر پرندے ان چکروں سے نمٹتے رہے ہیں، مگر موجودہ ماحولیاتی تبدیلی اتنی تیز ہے کہ انہیں خود کو ڈھالنے کا موقع ہی نہیں مل رہا۔
ماہرین اب اس نقصان کی حد جانچنے کے لیے کوشاں ہیں، لیکن وقت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ اگر سمندر کا درجہ حرارت جلد کم نہ ہوا، تو یہ خطہ اپنی حیاتیاتی تنوع کا ایک بڑا حصہ مستقل طور پر کھو سکتا ہے۔
ڈاکٹر ورگاس نے خبردار کیا ہے کہ "ہم اپنی آنکھوں کے سامنے ایک ماحولیاتی بحران کو جنم لیتے دیکھ رہے ہیں۔ سمندر ہمیں بتا رہا ہے کہ کیا غلط ہو رہا ہے، اب سوال یہ ہے کہ ہم اسے سننے کے لیے کتنے تیار ہیں۔”
