راولپنڈی — ڈھوک منگٹال کے رہائشیوں نے منگل کے روز مرکزی سڑک بلاک کر کے پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ احتجاج کا سبب چھ سالہ زویا کی گمشدگی کے چار روز بعد پولیس کی جانب سے تلاش کا عمل سست روی کا شکار ہونا ہے۔
مظاہرین نے ٹائر جلا کر ٹریفک معطل کر دی اور پولیس پر سنگین غفلت کا الزام عائد کیا۔ بچی کے والد، محمد اکرم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس حکام پہلے دن سے ہی ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔
"پولیس ہمیں صرف صبر کا کہہ رہی ہے، لیکن ہماری بیٹی غائب ہوئے چوتھا دن ہے،” اکرم نے نم آنکھوں کے ساتھ کہا۔ "ہم یہاں سے تب تک نہیں اٹھیں گے جب تک ہمیں کوئی ٹھوس پیش رفت نظر نہیں آتی۔”
علاقے میں بچوں کی گمشدگی کے واقعات میں حالیہ اضافہ مکینوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ مقامی ریکارڈ کے مطابق، رواں سال ان یونین کونسلوں سے یہ تیسرا بچہ ہے جو لاپتہ ہوا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ پولیس کے پاس ‘وسائل کی کمی’ کا عذر اب مزید قابلِ قبول نہیں رہا۔
ڈھوک منگٹال پولیس اسٹیشن کے حکام نے تلاش بند کرنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے اسے ‘حکمت عملی میں تبدیلی’ قرار دیا ہے۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ قریبی کمرشل پلازوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم اب تک کوئی مشتبہ شخص حراست میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی کوئی اہم سراغ ملا ہے۔
سرکاری بیانات اور عوامی غصے کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ سورج غروب ہونے تک دھرنا جاری تھا اور مظاہرین نے پولیس کے وعدوں پر اعتبار کرنے سے انکار کر دیا۔
زویا کے گھر والے اب بھی اس امید پر دروازے کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کوئی انہیں خوشخبری سنائے گا، مگر پولیس کی خاموشی نے ان کی امیدوں کو مزید دھندلا دیا ہے۔
