انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے غیر ملکی صحافیوں کے لیے حکومت کے نئے ضوابط پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دونوں تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات آزادی صحافت پر براہِ راست حملہ ہیں اور ان کا مقصد بین الاقوامی میڈیا کی کوریج کو سرکاری کنٹرول میں لانا ہے۔
تنازع کی بنیادی وجہ غیر ملکی نامہ نگاروں کے لیے لازمی قرار دی گئی ’سیکیورٹی کلیئرنس‘ ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ عمل صحافیوں کو ڈرانے اور حساس قومی معاملات پر تنقیدی رپورٹنگ سے روکنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ ایچ آر سی پی اور پی ایف یو جے کے مطابق، یہ ضوابط انتظامی امور سے زیادہ معلومات کی ترسیل کو محدود کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہیں۔
پی ایف یو جے کے ایک سینئر عہدیدار نے منگل کے روز بات کرتے ہوئے خبردار کیا کہ "یہ صحافت کو ریاستی منظوری سے مشروط کرنے کی کوشش ہے۔” انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت کا موجودہ رویہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کر سکتا ہے، کیونکہ بین الاقوامی ادارے اپنے عملے کو ریاستی جانچ پڑتال کے عمل سے گزارنے کے بجائے مقامی بیورو بند کرنے کو ترجیح دیں گے۔
ایچ آر سی پی نے اپنے بیان میں کہا کہ نئے قواعد میں اپیل کا کوئی شفاف طریقہ کار موجود نہیں، جس سے صحافیوں کے لیے ویزا منسوخی یا ملک بدری کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ کمیشن کا موقف ہے کہ جب ریاست یہ فیصلہ کرنے لگے کہ کون رپورٹنگ کر سکتا ہے اور کیا لکھ سکتا ہے، تو عوام کا حقِ آگہی براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔
دوسری جانب، وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ یہ رہنما اصول اس لیے ضروری ہیں تاکہ غیر ملکی نامہ نگار ریاستی قوانین اور ثقافتی حدود کے اندر رہ کر کام کریں۔ حکام کا مسلسل یہ موقف رہا ہے کہ قومی سلامتی کے مفادات بین الاقوامی میڈیا کو حاصل روایتی آزادیوں سے بالاتر ہیں۔
یہ کشمکش موجودہ حکومت اور سول سوسائٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتی ہے۔ جہاں حکومت ان اقدامات کو قومی استحکام کے لیے ضروری قرار دیتی ہے، وہیں میڈیا واچ ڈاگز اسے اختلافِ رائے کو دبانے کی ایک وسیع مہم کا حصہ سمجھتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے ان قواعد کے نفاذ کی تیاریوں کے بعد اب غیر ملکی میڈیا کے لیے انتخاب واضح ہے: یا تو نئی نگرانی کی شرائط کو تسلیم کریں یا پاکستان تک اپنی رسائی کھونے کا خطرہ مول لیں۔ سیکیورٹی کلیئرنس کے معیار پر وزارت کی خاموشی نے اس غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس سے ملک میں غیر ملکی صحافت کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔
