وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ پیٹرول 2 روپے 7 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 40 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق گزشتہ رات بارہ بجے سے ہو چکا ہے۔
یہ کمی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران آنے والی گراوٹ کے بعد کی گئی ہے۔ مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کے لیے یہ ریلیف اگرچہ معمولی ہے، لیکن طویل عرصے سے جاری قیمتوں میں اضافے کے رجحان کے بعد اسے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
عام گاڑی مالکان کے لیے یہ بچت چند سو روپے تک محدود ہے، لیکن ٹرانسپورٹ کے شعبے پر اس کے اثرات گہرے ہو سکتے ہیں۔ ملک بھر میں سامان کی ترسیل کا انحصار ڈیزل پر ہے۔ ٹرانسپورٹرز کی لاگت میں کمی کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی استحکام آئے، مگر عملی طور پر ایسا ہونا اب بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے یہ قیمتیں درآمدی لاگت اور ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کی ہیں۔ وزارت خزانہ نے پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس کی شرح کو برقرار رکھا ہے تاکہ حکومتی محصولات کے اہداف متاثر نہ ہوں۔
اپوزیشن جماعتوں نے اس کمی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے کہ بنیادی قیمتیں اب بھی عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہیں۔ دوسری جانب حکومتی عہدیداروں کا موقف ہے کہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے باوجود، مالیاتی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف منتقل کیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مسلسل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں میں یہ کمی عالمی سپلائی چین سے جڑی ہے۔ اگر آنے والے دنوں میں عالمی منڈی میں طلب بڑھی تو یہ معمولی ریلیف عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔ فی الحال، پٹرول پمپوں پر نئی قیمتوں کا نفاذ عمل میں آ چکا ہے۔
