نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلابی ریلے نے کم از کم 17 افراد کی جان لے لی ہے۔ مٹی کے تودے گرنے اور گلیشیئل جھیل کے پھٹنے سے پیدا ہونے والی صورتحال نے کئی دیہاتوں کا زمینی رابطہ منقطع کر دیا ہے، جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں ہفتے کی صبح متاثرہ علاقوں میں پہنچیں۔ سندھو پالچوک ضلع میں صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ امدادی کارکنوں کے مطابق، سیلابی پانی اپنے ساتھ مکانات، مویشی اور سڑکوں کا بڑا حصہ بہا لے گیا ہے۔ لاشوں کی بازیابی کا عمل جاری ہے، مگر پہاڑی راستوں پر موجود ملبے کے ڈھیر اور مسلسل بارشیں تلاش کے کام میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت گلیشیئرز کو تیزی سے پگھلا رہا ہے۔ یہ سیلاب محض ایک موسمیاتی واقعہ نہیں بلکہ ان انتباہات کا عملی ثبوت ہے جو برسوں سے دیے جا رہے تھے۔ غیر مستحکم پہاڑی ڈھلوانیں اب معمولی بارش برداشت کرنے کے بھی قابل نہیں رہیں۔
مقامی رہائشی ٹینزنگ شیرپا نے بتایا کہ پانی کا ریلا کسی تنبیہ کے بغیر آیا۔ "چند منٹ میں سڑک غائب ہو گئی اور نیچے بستا گاؤں مٹی کے ڈھیر میں بدل گیا۔ ہم نے صرف اپنی جانیں بچانے کے لیے اونچائی کی طرف بھاگنا ہی غنیمت سمجھا۔”
نیپال اور چین کے درمیان تجارت کی اہم ترین شاہراہ ‘ارانیکو ہائی وے’ کئی مقامات پر بند ہے۔ ہیوی مشینری کو ملبہ ہٹانے کے لیے بھیجا گیا ہے، لیکن لینڈ سلائیڈنگ کا سلسلہ نہ تھمنے سے کام کی رفتار سست ہے۔ کھٹمنڈو سے فوج کے ہیلی کاپٹروں کو زخمیوں کی منتقلی کے لیے روانہ کیا گیا ہے، تاہم خراب موسم اور ابر آلود فضا پروازوں میں حائل ہے۔
متاثرین اب کھلے آسمان تلے یا محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ آنے والے دنوں میں مزید بارش کی پیشگوئی نے ان پہاڑی بستیوں میں بسنے والوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ان کے لیے اب ہر لمحہ بقا کی جنگ بن چکا ہے۔
