وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی نرسری میں لگنے والی آگ کے واقعے پر سخت ایکشن لیتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ وزیراعظم نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔
یہ واقعہ ہسپتال کے نیونیٹل انٹینسو کیئر یونٹمیں پیش آیا، جہاں آگ لگنے سے نوزائیدہ بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں۔ ہسپتال میں موجود عملے نے ہنگامی بنیادوں پر بچوں کو منتقل تو کیا، لیکن اس واقعے نے ہسپتال کے سیکیورٹی اور فائر سیفٹی نظام کے پول کھول دیے ہیں۔
وزیراعظم نے ہنگامی اجلاس کے دوران برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "انتظامی غفلت کے باعث معصوم جانوں سے کھیلنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔” انہوں نے تحقیقاتی کمیٹی کو 48 گھنٹوں کے اندر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے تاکہ ذمہ داران کا تعین کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے۔
ہسپتال کے ذرائع کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔ اہم بات یہ ہے کہ نرسری کے برقی نظام کی خستہ حالی کے بارے میں پہلے بھی نشاندہی کی گئی تھی، لیکن انتظامیہ نے ان تنبیہات کو نظر انداز کر دیا۔ دارالحکومت کے سب سے بڑے ہسپتال میں آگ بجھانے والے آلات کا ناکارہ ہونا اور ہنگامی اخراج کے راستوں کا بند ہونا حکومتی کارکردگی پر بڑے سوالیہ نشان ہیں۔
وزارت داخلہ کے سینئر افسر کی سربراہی میں بننے والی یہ کمیٹی اب اس پہلو کا جائزہ لے گی کہ سالانہ آڈٹ اور سیفٹی پروٹوکولز پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔ متاثرہ والدین کے لیے یہ انکوائری ایک پہلا قدم ضرور ہے، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر کب تک سرکاری ہسپتالوں میں غفلت کا خمیازہ عوام اپنی جانوں سے ادا کرتے رہیں گے۔
حکومت نے وفاقی ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم، ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ انکوائری محض کاغذی کارروائی ثابت ہوگی یا اس بار واقعی نظام میں کوئی بڑی تبدیلی لائی جائے گی۔
