حکومت نے آٹو سیکٹر کو بحال کرنے اور گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت، رانا احسان افضل خان نے تصدیق کی ہے کہ گاڑیوں پر عائد اضافی کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد برسوں سے دباؤ کا شکار آٹو انڈسٹری کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے۔
ملک میں گاڑیوں کی فروخت گزشتہ کئی ماہ سے نچلی ترین سطح پر ہے۔ کمپنیاں نہ صرف پیداوار میں کمی پر مجبور ہیں بلکہ کئی پلانٹس طویل عرصے سے بند پڑے ہیں۔ درآمدی پابندیوں اور بھاری ٹیکسوں نے آٹو سیکٹر کی کمر توڑ دی ہے، جس کا براہِ راست اثر عام خریدار کی جیب پر پڑ رہا ہے۔
رانا احسان افضل نے صنعت کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم پوری پالیسی کا جائزہ لے رہے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ مقصد صرف صنعت کو سہارا دینا نہیں بلکہ گاڑیوں کو دوبارہ عوام کی پہنچ میں لانا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ان ٹیکسوں کے خاتمے کا اطلاق کب سے ہوگا اور قیمتوں میں کمی کتنی فوری نظر آئے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، صرف ڈیوٹیز ہٹانا کافی نہیں ہوگا۔ آٹو سیکٹر کو اس وقت بلند شرح سود اور روپے کی قدر میں گراوٹ جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور توانائی کے اخراجات اب بھی گاڑیوں کی لاگت میں بڑا حصہ ڈال رہے ہیں، جو حکومتی ٹیکس ریلیف کے اثرات کو محدود کر سکتے ہیں۔
آٹو انڈسٹری طویل عرصے سے حکومت سے اس ریلیف کا مطالبہ کر رہی تھی۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ گاڑی کی قیمت کا ایک بڑا حصہ سرکاری ٹیکسوں کی نذر ہو جاتا ہے، جس سے نہ صرف فروخت متاثر ہوتی ہے بلکہ سپلائی چین سے وابستہ ہزاروں افراد کا روزگار بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے یہ اعلان خوش آئند ضرور ہے، لیکن آٹو سیکٹر کے ماہرین محتاط ہیں۔ ماضی میں بھی ایسی کئی یقین دہانیاں بجٹ کے اہداف اور وزارت خزانہ کی ترجیحات کی نظر ہو چکی ہیں۔ کیا یہ پالیسی عملی جامہ پہنے گی یا محض کاغذوں تک محدود رہے گی؟ اس کا فیصلہ آنے والے چند ہفتوں میں ہو جائے گا۔
اگر حکومت اپنے فیصلے پر قائم رہتی ہے تو خریداروں کو آئندہ سہ ماہی میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ بصورت دیگر، آٹو انڈسٹری کا بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔
