لاہور — استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے سربراہ اور وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے پنجاب میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کے لیے اپنی مہم کو تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ علیم خان کا موقف ہے کہ پنجاب کا موجودہ انتظامی حجم اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ اسے ایک مرکز سے چلانا اب ممکن نہیں رہا۔
علیم خان نے لاہور میں پارٹی کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں کا مطالبہ محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ عوام کی بنیادی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب اور دیگر پسماندہ علاقوں کے عوام کو دہائیوں سے ترقی کے خواب دکھائے گئے، لیکن وسائل کا رخ ہمیشہ لاہور اور وسطی پنجاب کی طرف ہی رہا۔
اس مہم کا سیاسی پہلو انتہائی اہم ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس اقدام کے ذریعے علیم خان جنوبی پنجاب کے بیلٹ میں اپنی جماعت کی جڑیں مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں ووٹرز طویل عرصے سے خود کو مرکزی سیاست سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ تاہم، اس مطالبے کی راہ میں آئینی رکاوٹیں کھڑی ہیں۔
نئے صوبے کے قیام کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ موجودہ سیاسی تقسیم کے تناظر میں، کسی بھی بڑی جماعت کا اس معاملے پر متفق ہونا آسان دکھائی نہیں دیتا۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاشی بحران کے اس دور میں ایک نئے صوبے کا انتظامی ڈھانچہ کھڑا کرنا قومی خزانے پر بوجھ بنے گا، کیونکہ سیکرٹریٹ، اسمبلی اور عدالتی نظام کی تعمیر پر بھاری اخراجات اٹھیں گے۔
علیم خان ان خدشات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "عوام کو اپنے نمائندوں کا محاسبہ کرنے کے لیے اب اپنی صوبائی اسمبلی کی ضرورت ہے۔ جب تک فیصلے کرنے کا اختیار مقامی سطح پر منتقل نہیں ہوگا، پسماندگی ختم نہیں کی جا سکتی۔”
آئی پی پی اب اس معاملے کو عوامی سطح پر اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے۔ علیم خان کی حکمت عملی یہ ہے کہ اس مطالبے کو اتنا توانا کیا جائے کہ پارلیمنٹ میں موجود دیگر جماعتیں اسے نظر انداز نہ کر سکیں۔
فی الحال یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ مہم محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ تک محدود رہتی ہے یا واقعی آئینی ترمیم کی طرف بڑھتی ہے۔ تاہم، پنجاب کی سیاست میں نئے صوبوں کا یہ مطالبہ ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بن چکا ہے، جس نے روایتی سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی پوزیشن واضح کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
