ایپل نے یورپی یونین کے ریگولیٹرز کے دباؤ کے پیش نظر اپنی فیسوں کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ کمپنی اب یورپی یونین میں متبادل ایپ اسٹورز کے ذریعے ایپس تقسیم کرنے والے ڈویلپرز کے لیے "کور ٹیکنالوجی فیس” کے قوانین کو نرم کر رہی ہے، جس کا مقصد یورپی یونین کے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی تعمیل کو یقینی بنانا ہے۔
نئے ضوابط کے تحت، ایپل نے اس فیس کو کافی حد تک آسان بنا دیا ہے جو پہلے ڈویلپرز کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ تھی۔ اس سے قبل، ایپل کی نئی کاروباری شرائط اختیار کرنے والے ڈویلپرز کو دس لاکھ سے زائد انسٹالز کے بعد ہر نئے انسٹال پر 0.50 یورو ادا کرنا پڑتے تھے۔ اب ڈویلپرز کے پاس ایک متبادل آپشن موجود ہے جس میں وہ اپنی ایپس کے مقبول ہونے پر ہی فیس ادا کریں گے۔
اس تبدیلی کا سب سے زیادہ فائدہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈویلپرز کو ہوگا، جنہیں وائرل ہونے یا اچانک ڈاؤن لوڈز میں اضافے کی صورت میں بڑے مالی جرمانوں کا خطرہ رہتا تھا۔ ایپل کی جانب سے یہ اقدام ان تنقیدوں کے جواب میں سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ کمپنی کی سابقہ پالیسیاں غیر ضروری طور پر پیچیدہ تھیں اور ڈویلپرز کو متبادل اسٹورز استعمال کرنے سے روکتی تھیں۔
ایپل کے ترجمان نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ "ہم ڈویلپرز کو مزید لچک فراہم کرنے کے لیے یہ تبدیلیاں لا رہے ہیں۔” تاہم، کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ تبدیلیاں ان قانونی تحقیقات پر کیا اثر ڈالیں گی جو یورپی کمیشن ایپل کے خلاف کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام صرف ایک علامتی رعایت ہے۔ اگرچہ فیسوں میں کمی کی گئی ہے، لیکن ایپل کا "نوٹریائزیشن” کا عمل اب بھی برقرار ہے، جس کے تحت ہر ایپ کو ایپل کے سیکیورٹی چیک سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایپک گیمز اور اسپاٹی فائی جیسی کمپنیاں اس عمل کو اب بھی ایک رکاوٹ سمجھتی ہیں، جس کا مقصد صارفین کو ایپل کے اپنے اسٹور تک محدود رکھنا ہے۔
یورپی یونین کے حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ایپل کی یہ نئی پیشکش واقعی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی روح کے مطابق ہے یا یہ محض ریگولیٹرز کو مطمئن کرنے کی ایک کوشش ہے۔
فی الحال، ایپل نے یورپی مارکیٹ میں اپنے مالیاتی ڈھانچے کو کچھ حد تک تو کھول دیا ہے، لیکن ڈویلپرز اور ایپل کے درمیان جاری کشمکش کا مرکز اب بھی وہی ’گیٹ کیپنگ‘ کا عمل ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ تبدیلیاں یورپی یونین کے اینٹی ٹرسٹ حکام کو مطمئن کرنے کے لیے کافی ہوں گی یا ایپل کو مزید سخت اقدامات کرنے پڑیں گے۔
