یوٹیوب نے اپنے ویوز گننے کے طریقہ کار میں خاموشی سے بڑی تبدیلیاں کی ہیں، جس کے بعد پلیٹ فارم کے تخلیق کاروں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ یوٹیوب کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اشتہارات دینے والوں کو درست ڈیٹا فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم یوٹیوبرز اسے اپنی محنت پر براہِ راست حملہ قرار دے رہے ہیں۔
نئے الگورتھم کے تحت یوٹیوب اب ان "مشکوک” کلکس کو ویوز میں شمار نہیں کر رہا جنہیں وہ مصنوعی یا روبوٹک سمجھتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے تخلیق کاروں نے شکایت کی ہے کہ ان کی ویڈیوز کے ویوز راتوں رات 20 سے 30 فیصد تک کم ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم اب صرف بوٹس کو نہیں ہٹا رہا، بلکہ حقیقی ناظرین کے رویے کو بھی غلطی سے "اسپیم” قرار دے رہا ہے۔
ایک معروف ٹیکنالوجی یوٹیوبر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "یوٹیوب نے کلک کی قدر بدل دی ہے، لیکن ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ اب معیار کیا ہے۔ ہم اندھیرے میں تیر چلا رہے ہیں۔”
یہ تنازع یوٹیوب کی ‘کلک بیٹ’ کے خلاف نئی پالیسی سے جڑا ہے۔ برسوں سے یوٹیوبرز پرکشش تھمب نیلز اور عنوانات کا استعمال کرتے آئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ویڈیو کھولیں۔ اب یوٹیوب کا نیا سسٹم ان کلکس کو تب تک ویو نہیں مان رہا جب تک صارف ویڈیو پر ایک مخصوص وقت تک نہ رکے۔ مسئلہ یہ ہے کہ "مطلب خیز”وقت کا تعین یوٹیوب نے واضح نہیں کیا ہے۔
چھوٹے اور ابھرتے ہوئے چینلز اس تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ایک نیا یوٹیوبر اپنی ویڈیوز کو وائرل کرنے کے لیے کلکس پر انحصار کرتا ہے۔ اگر الگورتھم کسی ویڈیو پر اچانک آنے والے حقیقی ٹریفک کو ‘بوٹ اٹیک’ سمجھ کر فلٹر کر دے، تو اس چینل کی گروتھ رک جاتی ہے۔
اشتہاری کمپنیاں طویل عرصے سے یوٹیوب پر دباؤ ڈال رہی تھیں کہ وہ صرف حقیقی انسانوں کے دیکھنے کی تصدیق کرے۔ یوٹیوب نے اس مطالبے کو پورا کرنے کے لیے یہ سخت فلٹرنگ تو لگا دی، مگر اس کا خمیازہ ان تخلیق کاروں کو بھگتنا پڑ رہا ہے جو اس پلیٹ فارم کی اصل بنیاد ہیں۔
یوٹیوب نے اب تک اس تکنیکی تبدیلی کی تفصیلات پر کوئی وائٹ پیپر جاری نہیں کیا ہے۔ جب تک کمپنی اپنے میٹرکس کے اصول واضح نہیں کرتی، تخلیق کاروں اور پلیٹ فارم کے درمیان یہ کشیدگی برقرار رہے گی۔ اب تخلیق کاروں کو اپنی حکمت عملی بدلنی ہوگی، ورنہ ان کی ویڈیوز الگورتھم کے فلٹر میں گم ہو کر رہ جائیں گی۔
