یورپ میں پڑنے والی شدید گرمی کی لہر نے تعلیمی کیلنڈر اور عوامی تحفظ کے درمیان ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ براعظم کے کئی حصوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے، جس کے بعد والدین، اساتذہ کی یونینز اور سرکاری حکام اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ اسکول کھلے رکھے جائیں یا تعلیمی سال کا اختتام قبل از وقت کیا جائے۔
جنوبی یورپ میں صورتحال زیادہ تشویشناک ہے، جہاں زیادہ تر اسکولوں کی عمارتوں میں جدید ایئر کنڈیشننگ کا نظام موجود نہیں۔ اٹلی اور یونان کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ کلاس رومز کے اندر درجہ حرارت اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ طلبا کے لیے بیٹھنا تو دور، توجہ مرکوز کرنا بھی ناممکن ہو گیا ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گرمی سے نڈھال ہونے کا خطرہ اب محض ایک خدشہ نہیں بلکہ حقیقت بن چکا ہے، اس کے باوجود کئی ممالک کی وزارتِ تعلیم اسکول بند کرنے کے حق میں نہیں ہے۔
اس معاملے پر رائے منقسم ہے۔ وزرائے تعلیم کا مؤقف ہے کہ کورونا وبا کے دوران تعلیمی نقصان کے بعد، مزید چھٹیاں برداشت نہیں کی جا سکتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکول بند کرنے سے بچوں کی پڑھائی کا حرج ہوگا اور کام کرنے والے والدین کے لیے اچانک بچوں کی دیکھ بھال کا انتظام کرنا ایک بڑا انتظامی مسئلہ بن جائے گا۔
یونان کی وزارتِ تعلیم کے ترجمان نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم تعلیمی کیلنڈر اور بدلتی ہوئی موسمیاتی حقیقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔” وزارت نے اس معاملے پر کوئی حتمی حکم جاری کرنے کے بجائے مقامی انتظامیہ اور میئرز کو اختیار دیا ہے کہ وہ صورتحال کے مطابق اسکول بند کرنے کا فیصلہ کریں۔
تاہم، والدین اس مؤقف سے متفق نہیں۔ روم میں والدین کی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ تعلیمی کیلنڈر میں مستقل تبدیلی لائی جائے، کیونکہ بغیر ہوادار کلاس رومز میں جون کی شدید گرمی میں بچوں کو بٹھانا تعلیم نہیں بلکہ صحت کے ساتھ کھلواڑ ہے۔
روم کی رہائشی ایلینا روسی نے کہا، "میرا بیٹا کل شدید سر درد اور گرمی کے باعث جلد پر دانوں کے ساتھ گھر لوٹا۔ جب بچے کتابوں سے خود کو ہوا دے رہے ہوں تو وہ کچھ سیکھ نہیں رہے، بس دن گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
یورپی ماحولیاتی ایجنسی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ شدید گرمی کے واقعات کی شدت اور تعدد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اسکولوں کی عمارتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی رفتار سست ہے۔ بحیرہ روم کے خطے میں تعمیر کی گئی زیادہ تر عمارتیں سردیوں میں گرمی کو اندر رکھنے کے لیے بنائی گئی تھیں، نہ کہ موجودہ شدید گرم موسم کو برداشت کرنے کے لیے۔
یہ بحران ایک بڑی پالیسی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ حکومتیں ایک طرف گرمی کے الرٹ جاری کر رہی ہیں اور بزرگ شہریوں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ دے رہی ہیں، دوسری طرف بچوں کو صدیوں پرانے تعلیمی نظام کے تحت اسکول جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
فی الحال، صورتحال کا حل مقامی سطح پر نکالا جا رہا ہے۔ کہیں اسکولوں کے اوقات کار کم کر دیے گئے ہیں تاکہ دوپہر کی شدید گرمی سے بچا جا سکے، تو کہیں دوبارہ ‘آن لائن کلاسز’ کا سہارا لیا جا رہا ہے—ایک ایسا تجربہ جو بہت سے خاندانوں کے لیے وبا کے دنوں کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔
جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، سوال صرف نصاب مکمل کرنے کا نہیں رہا۔ سوال یہ ہے کہ جب موسمی حالات بنیادی ڈھانچے سے زیادہ سخت ہو جائیں تو اس کا خمیازہ کون بھگتے گا؟ جب تک حکومتیں اسکولوں کی عمارتوں کو جدید بنانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری نہیں کرتیں، یہ بحث ہر سال جون میں اسی طرح سر اٹھاتی رہے گی۔
