دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح گزشتہ ایک صدی کی نچلی ترین سطح پر آ گئی ہے، جس نے سربیا کے قصبے ’پراہووو‘ کے قریب برسوں سے ریت اور مٹی میں دبے نازی جرمنی کے جنگی جہازوں کے ڈھانچے بے نقاب کر دیے ہیں۔ یہ وہ جہاز ہیں جنہیں 1944 میں سوویت افواج کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر پسپائی اختیار کرتے ہوئے نازی بحری بیڑے نے خود ڈبو دیا تھا۔
یہ جہاز محض تاریخ کا حصہ نہیں، بلکہ اب ایک بڑا حفاظتی چیلنج بن چکے ہیں۔ جہازوں کے زنگ آلود اور نوکیلے ڈھانچے دریا کے اس حصے میں رکاوٹ بن رہے ہیں جہاں سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔ اس صورتحال نے دریائے ڈینیوب کے اس اہم تجارتی راستے کو نصف تک سکڑ دیا ہے، جس سے کشتی بانوں اور تجارتی جہاز رانوں کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
سب سے بڑا خطرہ ان جہازوں میں موجود بارود ہے۔ ماہرین کے مطابق، کئی جہازوں میں اب بھی دھماکہ خیز مائنز اور گولہ بارود موجود ہے جو آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود فعال ہو سکتا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح میں کمی سے نہ صرف جہازوں کے ڈیک اور مینار نظر آنے لگے ہیں، بلکہ یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ یہ جہاز کتنی خطرناک حالت میں دریائے کی تہہ میں موجود ہیں۔
سربیا کی حکومت پر طویل عرصے سے ان جہازوں کو نکالنے کا دباؤ ہے، لیکن یہ کام کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔ اس آپریشن کے لیے یورپی یونین نے تعاون کا وعدہ کیا تھا، تاہم بارود کی موجودگی کے باعث کسی بھی قسم کی کھدائی یا ہٹانے کا عمل انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے۔ ایک چھوٹی سی غلطی بھی دریائے ڈینیوب کے اس اہم حصے میں بڑے دھماکے کا سبب بن سکتی ہے۔
تاریخ دانوں کے مطابق، یہ بحری بیڑا ریئر ایڈمرل پال ولی زییب کے حکم پر ڈبویا گیا تھا تاکہ یہ سوویت افواج کے ہاتھ نہ لگ سکے۔ اس وقت تو سیکڑوں ملاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا، لیکن جہاز اور ان میں موجود مہلک سامان دریا کی تہہ میں ہی دفن رہ گیا، جو آج خشک سالی کے باعث دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔
فی الحال، یہ دریا ایک قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے۔ جب تک خشک سالی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، نازی دور کے یہ باقیات ڈینیوب کے پانیوں میں خطرے کی علامت بنے رہیں گے، اور حکام کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کب تک ان جہازوں کو اپنی جگہ چھوڑنا محفوظ ہے۔
