دریائے اوس کا ایک طویل حصہ اب ویران ہے۔ منگل کی رات ہونے والے ایک بڑے کیمیائی اخراج نے دریا کی مقامی آبی حیات کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں مچھلیاں ہلاک ہو چکی ہیں، جبکہ آنے والے تین برسوں کے لیے متوقع افزائشِ نسل کا عمل بھی مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔
ماحولیاتی ایجنسی کے حکام بدھ کی صبح جائے وقوعہ پر پہنچے تو انہیں کنارے پر مردہ مچھلیوں کے ڈھیر ملے۔ زہریلے مادے کا یہ بادل دریا کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ آگے بڑھا، جس نے اپنے پیچھے تباہی کے ایسے نشان چھوڑے ہیں جنہیں مٹنے میں برسوں لگیں گے۔
ماہرِ حیاتیات ڈاکٹر سارہ ہیمسلے کہتی ہیں، "ہم صرف بڑی مچھلیوں کے نقصان کی بات نہیں کر رہے۔ کیمیکلز نے دریا کی تہہ سے وہ چھوٹے جاندار بھی ختم کر دیے ہیں جن پر مچھلیوں کا انحصار تھا۔ یہ محض ایک عارضی دھچکا نہیں، بلکہ پورے ایکو سسٹم کا دوبارہ صفر پر آ جانا ہے۔”
مقامی ماہی گیروں نے، جو دہائیوں سے اس دریا کی حفاظت کر رہے تھے، سب سے پہلے اس واقعے کی اطلاع دی۔ ان کے مطابق پانی پر ایک دھاتی تہہ چمک رہی تھی اور ہوا میں شدید بو تھی۔ جب تک امدادی ٹیمیں پہنچیں، پانی میں آکسیجن کی سطح انتہائی نیچے گر چکی تھی اور پانی کا رنگ گہرا سرمئی ہو چکا تھا۔
آلودگی کے منبع کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کی توجہ قریبی کیمیکل پلانٹ کے ایک خراب والو کی جانب ہے۔ کمپنی نے ایک مختصر بیان میں "مکمل تعاون” کا وعدہ تو کیا ہے، مگر یہ واضح نہیں کیا کہ یہ اخراج ایک حادثہ تھا یا حفاظتی پروٹوکول میں کوتاہی کا نتیجہ۔
دریا کی بحالی ایک طویل اور مشکل عمل ہے۔ اگر پانی صاف بھی ہو جائے، تو اس سال کی افزائشِ نسل کے ضیاع نے ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جسے پُر کرنا ناممکن ہے۔ دریا میں اب نئی نسل موجود نہیں ہوگی، جس کا اثر پوری فوڈ چین پر پڑے گا، جس سے پرندوں اور آبی جانوروں کی بقا بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
مقامی لوگوں کے لیے یہ دریا صرف پانی کا بہاؤ نہیں، بلکہ ایک پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اب دریا کے کنارے خاموشی کا راج ہے۔ صفائی کرنے والی ٹیمیں مردہ مچھلیوں کو نکال رہی ہیں، لیکن اصل نقصان کی شدت کا اندازہ بہار کے موسم میں ہوگا، جب دریا کی موجیں زندگی کی علامتوں سے خالی دکھائی دیں گی۔
