امریکہ میں مہنگائی کی شرح گزشتہ تین سال سے زائد عرصے میں اپنی نچلی ترین سطح پر آ گئی ہے۔ کنزیومر پرائس انڈیکس کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، برسوں سے قیمتوں کے بوجھ تلے دبے امریکی شہریوں کے لیے یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
ستمبر میں مہنگائی کی سالانہ شرح 2.4 فیصد رہی، جو اگست میں 2.5 فیصد تھی۔ اگرچہ یہ شرح فیڈرل ریزرو کے 2 فیصد کے ہدف سے اب بھی کچھ زیادہ ہے، لیکن فروری 2021 کے بعد سے یہ سب سے کم اضافہ ہے۔
اس تبدیلی کی بڑی وجہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران توانائی کی قیمتوں میں 6.8 فیصد گراوٹ آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کریانہ کے سامان کی قیمتیں، جو 2022 اور 2023 کے دوران صارفین کے لیے پریشانی کا باعث تھیں، اب مستحکم ہو چکی ہیں جس سے عام خریدار کو کچھ ریلیف ملا ہے۔
تاہم، ‘کور’ انفلیشن یعنی وہ اشیاء جن میں خوراک اور توانائی شامل نہیں، ان کی شرح معمولی اضافے کے ساتھ 3.3 فیصد پر رہی۔ اس کی بنیادی وجہ سروس سیکٹر کے اخراجات، خاص طور پر رہائش اور طبی سہولیات کی قیمتوں میں تیزی ہے۔ کرایوں میں متوقع کمی نہ آنے کی وجہ سے مجموعی انڈیکس میں مطلوبہ حد تک گراوٹ نہیں آ سکی۔
یہ اعداد و شمار فیڈرل ریزرو کے لیے ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ پالیسی ساز اب اس کشمکش میں ہیں کہ آیا شرح سود میں کٹوتی کا سلسلہ جاری رکھا جائے یا کچھ عرصہ توقف کیا جائے۔ لیبر مارکیٹ میں سستی اور مہنگائی کے ہدف کے قریب پہنچنے کے باوجود، کور انفلیشن میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مہنگائی کے خلاف جنگ کا آخری مرحلہ ابھی باقی ہے۔
ایک معروف مالیاتی ادارے کے ماہر کا کہنا ہے کہ "رجحان واضح طور پر نیچے کی طرف ہے، لیکن یہ سفر سیدھا نہیں ہے۔ ہمیں اشیاء اور توانائی کی قیمتوں میں تو بہتری نظر آ رہی ہے، لیکن سروس سیکٹر اب بھی ایک ایسا چیلنج ہے جو راتوں رات حل نہیں ہوگا۔”
اوسط امریکی شہری کے لیے یہ اعداد و شمار استحکام کی کہانی سناتے ہیں۔ اگرچہ قیمتیں وبا سے پہلے کی سطح پر واپس نہیں آئیں—جو ووٹرز کے لیے مایوسی کا ایک بڑا سبب ہے—لیکن قیمتوں کے بڑھنے کی رفتار اب قابو میں دکھائی دیتی ہے۔
فیڈرل ریزرو کا اگلا اجلاس نومبر میں متوقع ہے۔ اب حکام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا موجودہ اعداد و شمار شرح سود میں ایک اور کٹوتی کے لیے کافی ہیں، یا وہ مزید ڈیٹا کے انتظار کو ترجیح دیں گے۔
