وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش: مرمتی اخراجات ایک ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئے
امریکی صدر کی رہائش گاہ اور دفتر، وائٹ ہاؤس، کا بنیادی ڈھانچہ ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ حکومتی دستاویزات کے مطابق وائٹ ہاؤس کے کمپلیکس کی مرمت اور حفاظتی نظام کو جدید بنانے پر اٹھنے والی لاگت ایک ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یہ رقم صرف عمارت کی خوبصورتی کے لیے نہیں، بلکہ اس کی فرسودہ تنصیبات کو بدلنے پر خرچ ہو رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی موجودہ حالت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس کے زیر زمین پانی کے پائپ، بجلی کا نظام اور ایئر کنڈیشننگ کے پرزے ٹرومین دور کے ہیں۔ 1950 کی دہائی کے بعد سے یہ نظام اپنی عمر پوری کر چکے ہیں اور کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔
یہ صرف ایک مرمتی کام نہیں، بلکہ ایک تکنیکی آپریشن ہے۔ جی ایس اے (GSA) — جو اس پراجیکٹ کی نگرانی کر رہی ہے — کے مطابق زیادہ تر سرمایہ عمارت کے نیچے بنے نیٹ ورک کو جدید بنانے میں لگ رہا ہے۔
اس بھاری اخراجات پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں ایک ارب ڈالر کی خطیر رقم کو کچھ مبصرین تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایک بجٹ تجزیہ کار نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "عوام اسے شاہانہ اخراجات سمجھتے ہیں، جبکہ انتظامیہ کے لیے یہ عمارت کو گرنے سے بچانے کی آخری کوشش ہے۔”
کام کی رفتار سست ہونے کی ایک بڑی وجہ اس کا مقام ہے۔ وائٹ ہاؤس ایک فعال دفتر ہے جہاں ہر وقت اہم میٹنگز اور سیکیورٹی پروٹوکولز جاری رہتے ہیں۔ تعمیراتی عملے کو اکثر صدر کی مصروفیات کی وجہ سے کام روکنا پڑتا ہے، جس سے لیبر کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔
اس منصوبے کا ایک بڑا حصہ ویسٹ ونگ کے باہر زیر زمین سہولیات کی تعمیر تھا، جو چند سال پہلے مکمل ہوا۔ اب توجہ عمارت کے اندرونی حصے پر ہے جہاں 70 سال پرانی تاروں اور پائپوں کو نکالا جا رہا ہے۔
منصوبہ 2025 تک مکمل ہونا ہے، لیکن وفاقی نگران کمیٹیاں پہلے ہی خدشات کا اظہار کر رہی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں جب بھی کوئی بڑا تعمیراتی کام شروع ہوا، حتمی بل ہمیشہ ابتدائی تخمینے سے کہیں زیادہ رہا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایک ارب ڈالر کی یہ رقم اس تاریخی عمارت کو اگلی صدی تک محفوظ رکھنے کے لیے کافی ثابت ہوگی یا نہیں۔
