کراچی کی فشنگ جیٹی پر ان دنوں غیر معمولی خاموشی ہے۔ گہرے سمندر میں شکار کرنے والے سیکڑوں جہاز لنگر انداز ہیں، جن کے عملے کا روزگار اب مچھلی کے شکار کی بجائے بین الاقوامی سیاست کے پیچیدہ جال میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ ٹونا مچھلی کی برآمدات سے وابستہ یہ صنعت اب اس جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا شکار ہے جس کا اس کے کاروبار سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔
بحران کی بنیادی وجہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں کا دائرہ کار وسیع ہونا ہے۔ پاکستانی برآمد کنندگان، جن کے تجارتی راستے برسوں سے خلیج فارس کے گرد گھومتے رہے ہیں، اب امریکی مالیاتی نگرانی کے ریڈار پر ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ پاکستانی بینکوں نے ان جہازوں یا تجارتی فرموں کے کھاتے منجمد کرنا شروع کر دیے ہیں جن کا کسی بھی طرح ایرانی پانیوں یا جہازوں سے تعلق ظاہر ہوتا ہے۔ بینکوں کے لیے یہ خطرہ مول لینے کے بجائے لین دین بند کر دینا زیادہ محفوظ راستہ ہے۔
پہلے ہی ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے بوجھ تلے دبی اس صنعت کے لیے یہ مالیاتی گھٹن سے کم نہیں۔
کراچی فشرفوک فورم کے ایک سینیئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ "ہمیں ایسے دیکھا جا رہا ہے جیسے ہم کوئی ممنوعہ سامان اسمگل کر رہے ہوں۔ ہم ماہی گیر ہیں، ہم مچھلیوں کے پیچھے سمندر میں جاتے ہیں، سیاسی نقشوں کے پیچھے نہیں۔ لیکن بینکوں کو اس سے غرض نہیں، وہ صرف خطرہ دیکھتے ہیں اور ادائیگی کا عمل روک دیتے ہیں۔”
اس کا فوری اثر برآمدات پر پڑا ہے۔ ٹونا مچھلی، جسے اپنی قیمت برقرار رکھنے کے لیے فوری کولڈ چین اور بیرون ملک ترسیل کی ضرورت ہوتی ہے، اب مقامی گوداموں میں پڑی ضائع ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی بینکنگ چینلز کے ذریعے ادائیگیوں کی بندش نے برآمد کنندگان کے لیے عالمی منڈی کے دروازے عملاً بند کر دیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد کی جانب سے اس معاملے پر واضح پالیسی کا فقدان ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بین الاقوامی پابندیوں پر عمل درآمد کے عمومی سرکلر تو جاری کیے ہیں، لیکن سمندری تجارت کے اس "گرے زون” سے نکلنے کے لیے چھوٹے برآمد کنندگان کو کوئی ٹھوس لائحہ عمل فراہم نہیں کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ بینکوں نے احتیاطی تدبیر کے طور پر تمام تر برآمدی سرگرمیوں کو ہی مشکوک قرار دے دیا ہے۔
کچھ برآمد کنندگان اب خلیجی بینکنگ کے مسائل سے بچنے کے لیے مشرقِ بعید کی منڈیوں کا رخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، یہ منتقلی مہنگی ہے اور اس کے لیے ایسی لاجسٹک سپورٹ درکار ہے جس کی استطاعت عام مقامی آپریٹرز کے پاس نہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے پاکستانی ماہی گیری کے شعبے کے لیے اب تک کوئی استثنا نہیں دیا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کا خمیازہ کراچی کے ماہی گیروں کو اپنے روزگار کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔
جب تک کوئی ایسا باضابطہ طریقہ کار وضع نہیں کیا جاتا جو جائز غذائی برآمدات کو ممنوعہ تجارتی سرگرمیوں سے الگ کر سکے، کراچی کی جیٹی پر یہ خاموشی برقرار رہے گی۔ سمندر میں مچھلی تو موجود ہے، مگر وہ اب پاکستانی ماہی گیروں کی پہنچ سے دور ہو چکی ہے۔
