واشنگٹن:
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں 13 سال بعد نئے کوئلہ سے چلنے والے پاور پلانٹس کی تعمیر کے لیے وفاقی فنڈنگ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد امریکہ کی کوئلہ صنعت کو دوبارہ فعال کرنا ہے، جو گزشتہ برسوں میں قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور سخت ماحولیاتی قوانین کے باعث زوال کا شکار رہی ہے۔ حامیوں کے مطابق کوئلہ اب بھی توانائی کا قابلِ اعتماد ذریعہ ہے اور توانائی کے استحکام میں مدد دے سکتا ہے۔
اس اعلان کے بعد پالیسی سازوں اور ماحولیاتی تنظیموں میں بحث شروع ہو گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کوئلہ سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کاربن اخراج بڑھا سکتا ہے اور ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کو شمسی اور ہوا جیسی صاف توانائی پر مرکوز ہونا چاہیے۔
دوسری جانب حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کان کنی کے علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرے گا اور ان علاقوں کی معیشت کو سہارا دے گا جو گزشتہ دہائی میں کوئلہ پلانٹس کی بندش سے متاثر ہوئے ہیں۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق یہ تجویز امریکہ میں توانائی پالیسی پر جاری سیاسی تقسیم کی عکاسی کرتی ہے، جہاں معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن تلاش کیا جا رہا ہے۔
