حکومت ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت ایک دور افتادہ جزیرہ نما کے ارد گرد کے وسیع سمندری علاقے کو محفوظ قرار دیا جائے گا۔ اگر اس منصوبے کی منظوری دی جاتی ہے تو ملک کی کل سمندری حدود کا 30 فیصد حصہ سخت ماحولیاتی نگرانی میں آ جائے گا، جو کمرشل ماہی گیری اور تحفظِ ماحول کے درمیان ایک اہم توازن قائم کرنے کی کوشش ہے۔
یہ منصوبہ جزائر کے گرد موجود مرجانی چٹانوں اور گہرے سمندری خندقوں پر مرکوز ہے۔ ماہرینِ ماحولیات طویل عرصے سے اس علاقے کو تحفظ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ یہ نایاب اور ہجرت کرنے والی سمندری حیات کے لیے افزائشِ نسل کا اہم مرکز ہے۔ مقامی محققین کا انتباہ ہے کہ اگر غیر قانونی ٹرالنگ اور ضرورت سے زیادہ مچھلیوں کا شکار نہ روکا گیا تو یہ علاقہ ایک دہائی کے اندر اپنی حیاتیاتی تنوع کھو دے گا۔
تاہم، یہ تجویز متنازعہ ہے۔ کمرشل ماہی گیروں کی تنظیموں کا موقف ہے کہ ان حدود کی بندش سے انہیں کھلے سمندر میں مزید دور جانا پڑے گا، جس سے ایندھن کے اخراجات بڑھیں گے اور عام صارفین کے لیے مچھلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ ماہی گیروں کے نمائندوں نے گزشتہ ہفتے حکام کے سامنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ساحلی قصبوں کی معیشت کو سالانہ لاکھوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔
ماحولیات کی وزیر سارہ جینکنز نے منگل کو ایک سماعت کے دوران ان خدشات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے ایک نئی معاشی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اسپل اوور ایفیکٹ” کے تحت، جب محفوظ علاقوں میں مچھلیوں کی تعداد بڑھے گی تو اس کا مثبت اثر ارد گرد کے تجارتی زونز پر بھی پڑے گا اور طویل مدتی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔
وزیر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم مکمل بندش کی بات نہیں کر رہے، بلکہ ہم ایک ایسے بحالی کے عمل کی طرف جا رہے ہیں جو اگلے پانچ سال کے بجائے اگلے پچاس سال کے لیے صنعت کو پائیدار بنائے۔”
مسودہ قانون میں مرحلہ وار نفاذ کی تجویز دی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں صنعتی سطح پر ٹرالنگ پر دو سالہ پابندی عائد کی جائے گی، جس کے بعد چھوٹے پیمانے پر روایتی ماہی گیری کی اجازت ہوگی۔ بحریہ نے ان حدود کی نگرانی کے لیے گشتی کشتیاں فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اب ان پانیوں کو ایک قومی اثاثہ سمجھتی ہے۔
اگر کابینہ اس ماہ کے آخر تک اس منصوبے کی منظوری دیتی ہے تو جنوری سے اس کا نفاذ شروع ہو جائے گا۔ فی الحال، یہ جزیرہ نما ایک قانونی خلا کا شکار ہے، جس کی وجہ سے مقامی ماحولیاتی نظام ان خطرات کی زد میں ہے جنہیں روکنا اب حکومت کی اولین ترجیح بن چکا ہے۔
