اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کے لیے وفاقی بجٹ 25-2024 میں 150 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں پیچیدہ زچگی کے کیسز کے لیے سب سے بڑے مرکز ہونے کے باوجود، یہ فنڈز گزشتہ سال کے نظرثانی شدہ تخمینوں کے مقابلے میں تقریباً جمود کا شکار ہیں۔
یہ رقم ہسپتال کے آپریشنل اخراجات، ضروری ادویات کی خریداری اور طبی آلات کی مرمت کے لیے مختص کی گئی ہے۔ تاہم، ہسپتال انتظامیہ کا ماننا ہے کہ یہ بجٹ مہنگائی کی موجودہ شرح اور یوٹیلیٹی بلوں میں اضافے کے سامنے ناکافی ہے۔
پمز انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہم کم سے کم وسائل میں گزارا کر رہے ہیں۔ اسلام آباد کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ملحقہ اضلاع سے آنے والے مریضوں کے دباؤ نے ہمارے نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔”
ایم سی ایچ سینٹر میں روزانہ اوسطاً 40 سے 60 زچگیاں ہوتی ہیں، جبکہ نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ پر سال بھر گنجائش سے 20 فیصد زیادہ بوجھ رہتا ہے۔ محدود بجٹ کے باعث ہسپتال انتظامیہ کو اکثر ہنگامی سرجریز کو ترجیح دینی پڑتی ہے، جس سے عام طبی سہولیات کے منتظر مریضوں کی قطاریں طویل ہو رہی ہیں۔
صحت کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں اور زمینی حقائق میں بڑا خلیج موجود ہے۔ ایک طرف حکومت مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر کے فروغ کے دعوے کرتی ہے، دوسری طرف بجٹ میں اضافہ نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ترجیحات میں توسیع کی بجائے محض نظام کو چلانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
درآمدی سرجیکل کٹس اور آکسیجن سپلائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر، بجٹ میں یہ معمولی اضافہ ہسپتال کی کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ پمز پر انحصار کرنے والے ہزاروں خاندانوں کے لیے، یہ اعداد و شمار صرف کاغذوں تک محدود نہیں، بلکہ اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ ہنگامی صورتحال میں انہیں بروقت طبی امداد ملے گی یا نہیں۔
