ماؤنٹ ایورسٹ کے نیپالی راستے پر گلیشیئر کے ایک بڑے اور غیر مستحکم حصے نے چڑھائی کی تیاری متاثر کر دی ہے، جس سے موسمِ بہار کے اہم کوہ پیمائی سیزن کے آغاز میں ہی تاخیر پیدا ہو گئی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق یہ رکاوٹ کھمبو آئس فال میں پیدا ہوئی ہے، جو ایورسٹ کے جنوبی راستے کا سب سے خطرناک حصہ سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹس میں اس برفانی رکاوٹ کو ایک بڑے سیرک یعنی لٹکتے ہوئے برفانی تودے کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جو راستے کے اوپر خطرناک انداز میں موجود ہے۔ اسی وجہ سے راستہ بنانے والی خصوصی شیرپا ٹیم، جسے عام طور پر آئس فال ڈاکٹرز کہا جاتا ہے، رسیاں اور سیڑھیاں لگانے کے کام میں سست روی کا شکار ہوئی ہے۔
کھمبو آئس فال بیس کیمپ اور اوپری کیمپوں کے درمیان واقع ایک ایسا حصہ ہے جہاں گہری دراڑیں، کھڑی برفانی دیواریں اور مسلسل بدلتی ہوئی برفانی ساخت کوہ پیماؤں کے لیے شدید خطرہ بناتی ہے۔ اسی لیے یہاں راستہ کھولنے میں معمولی تاخیر بھی پورے سیزن کے شیڈول پر اثر ڈال سکتی ہے۔
وقت بھی خاصا حساس ہے۔ اپریل میں عموماً کوہ پیما بیس کیمپ پہنچ کر جسمانی مطابقت کے مرحلے شروع کرتے ہیں اور کیمپ ون اور کیمپ ٹو کی جانب ابتدائی چڑھائیاں کی جاتی ہیں۔ اگر راستہ دیر سے کھلتا ہے تو مئی میں چوٹی سر کرنے کے مختصر موسمی مواقع کے دوران غیر معمولی بھیڑ پیدا ہو سکتی ہے، جس سے اوپر کے حصوں میں ٹریفک جام جیسی صورت حال بننے کا خدشہ ہے۔
آؤٹ فٹرز اور کوہ پیمائی مبصرین پہلے ہی خبردار کر رہے ہیں کہ سیزن کے آغاز میں یہ رکاوٹ بعد میں بڑے دباؤ کا سبب بن سکتی ہے، کیونکہ نیپال کی جانب سے اس سال بھی بھاری تعداد میں کوہ پیما ایورسٹ پر جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا کہ 2025 میں تقریباً 800 افراد ایورسٹ کی چوٹی تک پہنچے تھے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصروف سیزن میں ابتدائی تاخیر بعد میں کتنی بڑی مسئلہ بن سکتی ہے۔
فی الحال اس مخصوص برفانی رکاوٹ کے باعث کسی ہلاکت کی وسیع پیمانے پر تصدیق سامنے نہیں آئی، مگر بیس کیمپ میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ صاف ہے: ایورسٹ پر آخرکار فیصلہ اکثر انسان نہیں بلکہ پہاڑ خود کرتا ہے۔ اور اس وقت، ایک غیر مستحکم برفانی دیوار پورے سیزن کی رفتار طے کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
