محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں 3 ہزار رنز مکمل کر کے ایک اور سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی وہ بابر اعظم اور شعیب ملک کے بعد اس ایلیٹ فہرست میں شامل ہونے والے تیسرے پاکستانی بلے باز بن گئے ہیں۔
یہ سنگ میل ایک ایسے وقت میں عبور ہوا جب قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ کو تسلسل کے فقدان کا سامنا ہے۔ اگرچہ رضوان کے اسٹرائیک ریٹ پر اکثر تنقید کی جاتی ہے، مگر اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ انہوں نے بہت کم اننگز میں یہ ہدف حاصل کر کے خود کو ٹیم کا ناقابلِ تردید ستون ثابت کیا ہے۔
بابر اعظم اس فارمیٹ میں پاکستان کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر ہیں، جن کا ریکارڈ فی الحال کسی اور کھلاڑی کی پہنچ میں دکھائی نہیں دیتا۔ دوسری جانب شعیب ملک، جن کا کیریئر دو دہائیوں پر محیط ہے، اس فہرست میں دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔ رضوان کی اس کلب میں شمولیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان کی وائٹ بال کرکٹ کا انحصار کس قدر ٹاپ آرڈر پر رہا ہے۔
ٹیم میں جاری تبدیلیوں اور حکمت عملی پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان، رضوان کی وکٹ پر ٹھہرنے کی صلاحیت ہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ناقدین اکثر ان کی ابتدائی اوورز میں باؤنڈریز لگانے کی رفتار کو ہدف بناتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا کریز پر قیام ہی ٹیم کو 150 کے مجموعے سے نکال کر 180 تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رضوان نے کہا، "بابر اور ملک جیسے لیجنڈز کے ساتھ نام کا لیا جانا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔” انہوں نے اپنی انفرادی کارکردگی پر بات کرنے کے بجائے ٹیم کے مجموعی نتائج پر توجہ مرکوز رکھی۔
اعداد و شمار ایک تلخ حقیقت بھی سامنے لاتے ہیں: پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی کامیابیوں کا دارومدار بڑی حد تک اسی تگڑی پر ہے۔ جب ان تینوں میں سے کوئی ایک ناکام ہوتا ہے، تو مڈل آرڈر کی کمزوری کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے سلیکشن کمیٹی تاحال حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
آئندہ بڑے آئی سی سی ٹورنامنٹس سے قبل، رضوان کی فارم صرف ایک انتخاب نہیں بلکہ ٹیم کی ضرورت بن چکی ہے۔ کیا یہ تینوں کھلاڑی مزید عرصے تک ٹیم کا بوجھ اٹھا پائیں گے؟ یہ سوال پاکستان کرکٹ کے حلقوں میں سب سے اہم ہے۔ فی الحال، رضوان ریکارڈ بک میں اپنا نام لکھوا چکے ہیں اور ٹیم کے پاس ایک ایسا اینکر موجود ہے جس پر وہ بھروسہ کر سکتی ہے۔
