کراچی کنگز کے بلے باز پشاور زلمی کے نوجوان فاسٹ بولر علی رضا کے سامنے بے بس دکھائی دیے، جس کے نتیجے میں کنگز کی ٹیم مقررہ اوورز میں 182 رنز تک ہی محدود رہ سکی۔ علی رضا نے اپنی نپی تلی بولنگ سے بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی اور اہم مواقع پر وکٹیں حاصل کرکے زلمی کو میچ میں برتری دلائی۔
کراچی کنگز نے اننگز کا آغاز پرعزم انداز میں کیا، تاہم علی رضا کے اٹیک پر آتے ہی صورتحال بدل گئی۔ انہوں نے نہ صرف رنز کی رفتار کو روکا بلکہ بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔ شان مسعود نے ابتدائی مرحلے میں اننگز کو سنبھالا، مگر علی رضا کی درست لائن اور لینتھ نے مڈل آرڈر کو شدید دباؤ میں رکھا۔
علی رضا کی بولنگ کا خاص پہلو ان کا ڈسپلن تھا۔ جہاں دوسرے بولرز رنز لٹاتے رہے، وہیں رضا نے بلے بازوں کو مجبور کیا کہ وہ غلط شاٹس کھیلیں یا پھر وکٹیں گنوائیں۔ کنگز کی ٹیم 200 رنز کے ہندسے کو عبور کرنے کے لیے کوشاں تھی، لیکن زلمی کے بولرز نے آخری اوورز میں بھی دباؤ برقرار رکھا۔
اننگز کے وقفے پر گفتگو کرتے ہوئے علی رضا نے کہا، "میری کوشش صرف درست لائن پر گیند کرنا تھی۔ وکٹ بیٹنگ کے لیے اچھی تھی، لیکن اگر آپ نظم و ضبط کے ساتھ بولنگ کریں تو بلے بازوں کو رنز بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔”
کراچی کنگز کا 182 رنز کا مجموعہ بظاہر ایک اچھا اسکور ہے، مگر جس طرح کی بیٹنگ لائن اپ ان کے پاس موجود ہے، یہ ہدف کافی نہیں لگتا۔ خاص طور پر علی رضا کے اوورز کے دوران اسٹرائیک روٹیٹ نہ کر پانا کنگز کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔
اب پشاور زلمی کے بیٹرز پر منحصر ہے کہ وہ اس بولنگ کارکردگی کو جیت میں بدل سکیں۔ وکٹ پر گیند بلے پر اچھی طرح آ رہی ہے، اس لیے اگر زلمی کے ٹاپ آرڈر نے ابتدائی اوورز میں احتیاط برتی تو یہ ہدف حاصل کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ اب سارا دارومدار کراچی کنگز کے بولرز پر ہے کہ آیا وہ زلمی کے بیٹرز کو علی رضا جیسی مشکل میں ڈال پاتے ہیں یا نہیں۔
