زمین پر زندگی کی بقا کسی اچانک خلائی حادثے یا شہابِ ثاقب کے ٹکرانے سے نہیں، بلکہ آکسیجن کے بتدریج خاتمے سے ختم ہوگی۔ ایک نئی سائنسی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ زمین کا ماحول ایک بار پھر میتھین سے بھر جائے گا، جس کے نتیجے میں انسانوں اور پیچیدہ جانداروں کے لیے سانس لینا نامکن ہو جائے گا۔
’نیچر جیو سائنس‘ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور ٹوہو یونیورسٹی کے ماہرین نے زمین کے ماحولیاتی نظام کا جدید ماڈلز کے ذریعے جائزہ لیا۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جیسے جیسے سورج کی عمر بڑھے گی، اس کی تپش اور توانائی میں اضافہ ہوگا، جو زمین کے کرہ ہوائی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خاتمے کا سبب بنے گا۔
پودوں کو زندہ رہنے اور آکسیجن بنانے کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب فضا میں اس گیس کی سطح گر جائے گی تو پودے ختم ہونے لگیں گے، جس سے آکسیجن کی پیداوار کا پورا نظام مفلوج ہو جائے گا۔
تحقیق کے سربراہ کاظومی اوزاکی نے اس تبدیلی کو ’انتہائی شدید‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "ہم مستقبل میں آکسیجن کی ایسی قلت کی بات کر رہے ہیں جو آج کے مقابلے میں دس لاکھ گنا زیادہ ہوگی۔”
یہ عمل فوری طور پر شروع نہیں ہو رہا۔ سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ زمین کو اس مرحلے تک پہنچنے میں تقریباً ایک ارب سال لگیں گے۔ زمین کی تاریخ بتاتی ہے کہ تقریباً ڈھائی ارب سال پہلے ’گریٹ آکسیڈیشن ایونٹ‘ کے ذریعے یہاں آکسیجن کا آغاز ہوا تھا؛ نئی تحقیق کے مطابق زمین کا مستقبل اس کا بالکل الٹ ہوگا۔
اس دریافت نے خلائی تحقیقات کے ماہرین کو بھی نئی سوچ دی ہے۔ اب تک ناسا اور دیگر ادارے دوسرے سیاروں پر زندگی کی موجودگی کا اندازہ وہاں آکسیجن کی موجودگی سے لگاتے رہے ہیں۔ تاہم، اس تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی سیارے پر آکسیجن کا ہونا محض ایک عارضی مرحلہ ہو سکتا ہے، اور ممکن ہے کہ کائنات میں کئی ایسے سیارے موجود ہوں جہاں زندگی تو ہو لیکن آکسیجن نہ ہو۔
موجودہ نسل کے لیے موسمیاتی تبدیلیاں اور گلوبل وارمنگ زیادہ بڑا خطرہ ہیں، لیکن طویل مدت میں زمین کا مقدر سورج کی تپش اور آکسیجن کی کمی سے جڑا ہے۔ جب پودوں کے لیے خوراک بنانے کا ذریعہ ختم ہوگا، تو زمین کا وہ حفاظتی غلاف بھی ٹوٹ جائے گا جس نے اربوں سال سے زندگی کو پناہ دے رکھی ہے۔
