بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے باضابطہ طور پر فاسٹ بولر مصتفیض الرحمان اور ناہید رانا کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2026 میں شرکت کے لیے این او سی (NOC) دینے سے انکار کر دیا ہے۔ بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کو کیے گئے فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ان کا پی ایس ایل میں حصہ لینے کا امکان ختم ہو گیا ہے۔
یہ فیصلہ بی سی بی کی جانب سے کھلاڑیوں کی دستیابی اور ورک لوڈ مینجمنٹ کے حوالے سے سخت پالیسی کا عکاس ہے۔ بنگلہ دیش کی آئندہ ہوم سیریز اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے مصروف شیڈول کے پیش نظر، بورڈ انفرادی لیگز کے بجائے قومی ذمہ داریوں اور کھلاڑیوں کی فٹنس کو ترجیح دے رہا ہے۔
مصتفیض الرحمان، جو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ڈیتھ اوورز کے ماہر مانے جاتے ہیں، پی ایس ایل ڈرافٹ میں فرنچائزز کی پہلی پسند ہو سکتے تھے۔ ان کی عدم موجودگی سے ان ٹیموں کو نقصان ہوگا جو تجربہ کار فاسٹ بولر کی تلاش میں تھیں۔ نوجوان پیسر ناہید رانا کے لیے یہ فیصلہ ایک دھچکے کی مانند ہے، کیونکہ وہ غیر ملکی کنڈیشنز میں کھیل کر اپنے تجربے میں اضافہ کرنا چاہتے تھے۔
منگل کو بی سی بی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہمیں مجموعی مفاد کو دیکھنا ہوگا۔ ہمارے پیسرز پر کام کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ ہم اہم سیریز سے قبل اپنے اہم بولرز کو تھکا ہوا یا انجری کا شکار نہیں دیکھ سکتے۔”
بورڈ کا یہ موقف نیا نہیں ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں بی سی بی نے اپنے مرکزی کھلاڑیوں کو اکثر غیر ملکی لیگز میں کھیلنے سے روکا ہے، جس کی وجہ ہمیشہ "قومی ڈیوٹی کے لیے تیاری” بتائی گئی ہے۔ اگرچہ کھلاڑیوں کا ماننا ہے کہ ایسی لیگز میں شرکت سے انہیں تکنیکی مہارت سیکھنے کا موقع ملتا ہے، مگر بورڈ اپنی پالیسی پر سختی سے قائم ہے۔
یہ فیصلہ بی سی بی کی انتظامی منصوبہ بندی اور کھلاڑیوں کے کیریئر کے اہداف کے درمیان ایک واضح خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ بورڈ اسے خالصتاً فٹنس کا معاملہ قرار دے رہا ہے، لیکن اس سے بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی مالی آمدنی کے مواقع محدود ہو گئے ہیں۔
پی ایس ایل ڈرافٹ اب ان دونوں کھلاڑیوں کے بغیر ہی منعقد ہوگا، جس کے بعد فرنچائزز کو متبادل آپشنز کی تلاش کرنی پڑے گی۔ مصتفیض اور رانا کے لیے اب تمام تر توجہ قومی ٹیم کے تربیتی کیمپ پر مرکوز ہے، جہاں ان کی شرکت اب کوئی انتخاب نہیں بلکہ لازمی امر ہے۔
