سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی طبی رپورٹ میں ان کی آنکھ کے انفیکشن کی سنگین نوعیت کا انکشاف ہوا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی میڈیکل دستاویزات کے مطابق، بشریٰ بی بی ایک عرصے سے آنکھ کے دائمی انفیکشن میں مبتلا ہیں، جس کے باعث ان کی بینائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
نجی میڈیکل بورڈ کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان کی بائیں آنکھ میں شدید سوزش اور انفیکشن موجود ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مسلسل نظر انداز کیے جانے کے باعث یہ انفیکشن بگڑ چکا ہے اور اب انہیں فوری طور پر ماہر امراض چشم کی زیر نگرانی علاج کی ضرورت ہے۔
بشریٰ بی بی کے وکیل، بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ جیل میں دستیاب طبی سہولیات اس پیچیدہ مرض کے علاج کے لیے ناکافی ہیں۔ انہوں نے استدعا کی کہ بشریٰ بی بی کو فوری طور پر کسی ایسے ہسپتال منتقل کیا جائے جہاں آنکھوں کی سرجری اور جدید علاج ممکن ہو۔
دوسری جانب سرکاری حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کو جیل قوانین کے مطابق تمام طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے خدشات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، قیدیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ صرف ڈاکٹروں کی سفارش پر ہی کیا جاتا ہے۔
یہ طبی رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بشریٰ بی بی کے شوہر اور سابق وزیراعظم عمران خان کی قانونی ٹیم نے ان کی رہائی اور علاج کے لیے دباؤ بڑھا رکھا ہے۔ پی ٹی آئی کے حامیوں کا الزام ہے کہ حکومت بشریٰ بی بی کی صحت کے معاملے پر مجرمانہ غفلت برت رہی ہے تاکہ سیاسی دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔
عدالت نے جیل انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ بشریٰ بی بی کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کی تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔ اب سب کی نظریں اگلی سماعت پر ہیں، جہاں یہ طے ہونا ہے کہ آیا موجودہ علاج کافی ہے یا انہیں جیل سے باہر کسی اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔
فیصلہ جو بھی ہو، یہ طبی رپورٹ کیس کا ایک نیا رخ بن چکی ہے، جس نے قانونی بحث کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کے سوالات کو بھی مرکزِ نگاہ بنا دیا ہے۔
