وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 8.50 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 18 اگست 2026 سے ہو چکا ہے۔
اس تازہ ترین ردوبدل کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 264.20 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6.50 روپے کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 268.30 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں اور روپے کی قدر میں استحکام کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمتیں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 78 ڈالر فی بیرل سے نیچے رہیں، جس سے حکومت کو صارفین کو ریلیف دینے کا موقع ملا۔
عام شہری کے لیے یہ کمی ایک بڑی خبر ہے، کیونکہ رواں سال کے دوران مہنگائی نے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو مسلسل اوپر رکھا ہے۔ تاہم ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ یہ ریلیف عارضی ہو سکتا ہے۔
اسلام آباد میں موجود ایک انرجی سیکٹر کے تجزیہ کار نے کہا کہ "عالمی مارکیٹ میں وقتی سکون ضرور ہے، مگر یہ صورتحال نازک ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی سپلائی چین کی رکاوٹ اگلی نظرثانی میں قیمتوں کو دوبارہ اوپر لے جا سکتی ہے۔”
حکومت پر مہنگائی کے ستائے عوام کی جانب سے مسلسل دباؤ تھا۔ یہ رواں ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوسری کمی ہے۔ اس کے باوجود، پیٹرول پر عائد لیویز اور ٹیکسوں کا بوجھ اب بھی قیمتوں کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ رکھے ہوئے ہے۔
وزارتِ خزانہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ فیصلہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی بریفنگ کے بعد وزیراعظم کی منظوری سے کیا گیا۔ حکومت کا ہدف بجٹ کے اہداف کو برقرار رکھنا اور ساتھ ہی عوام کی قوتِ خرید کو مزید گرنے سے بچانا ہے۔
نئی قیمتوں کا اطلاق آئندہ 15 روز تک برقرار رہے گا۔ آئندہ ماہ ان قیمتوں میں مزید کمی ہوگی یا اضافہ، اس کا انحصار مکمل طور پر عالمی نرخوں اور ملکی معاشی صورتحال پر ہوگا۔
