پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بار پھر بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی ‘معرکہ حق’ میں اپنی ناکامی کو تسلیم کرنے کے بجائے حقائق کو مسخ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
فوجی ترجمان کے مطابق، بھارت کا رویہ زمینی حقائق سے مکمل لاتعلقی کا عکاس ہے۔ راولپنڈی سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی قیادت اپنی داخلی سیاست کو بچانے کے لیے جھوٹے بیانیے کا سہارا لے رہی ہے، حالانکہ سرحد پر ہونے والی کارروائیوں کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔
ایک سیکیورٹی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "بھارت اپنے ہی بنے ہوئے پروپیگنڈے کے جال میں پھنس چکا ہے۔ ان کا سرکاری بیانیہ حقیقت سے کوسوں دور ہے، جبکہ پاکستان نے ہمیشہ ثبوتوں کے ساتھ اپنی پوزیشن واضح کی ہے۔”
یہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے تقریباً منجمد ہیں۔ بھارت کا روایتی موقف رہا ہے کہ اس کی فوجی نقل و حرکت دفاعی اور سرحد پار دراندازی روکنے کے لیے ہے، تاہم آئی ایس پی آر نے ‘معرکہ حق’ کو ایک ایسی فیصلہ کن کارروائی قرار دیا ہے جہاں پاکستان کو تزویراتی برتری حاصل رہی۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری اس لفظی جنگ کا مقصد عالمی برادری اور اپنے اپنے عوام کو متاثر کرنا ہے۔ سرحدی علاقوں میں بسنے والے شہریوں کے لیے یہ صورتحال مسلسل اضطراب کا باعث ہے، جہاں ریاستوں کے بیانات اور زمینی حقیقتوں کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے آئی ایس پی آر کے اس تازہ ترین بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم، نئی دہلی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت اس بیان کو پاکستان کی اندرونی سیاسی مشکلات سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیتا ہے۔
دونوں اطراف سے جاری ان متضاد دعووں کے بعد مستقبل قریب میں کشیدگی میں کمی کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرحدوں پر ہونے والی جنگ کے ساتھ ساتھ بیانیے کی جنگ بھی اتنی ہی شدید ہے جتنی کہ میدانِ عمل۔
