مکہ معاہدہ، جس کا مقصد فتح اور حماس کے درمیان برسوں پرانی خلیج کو ختم کرنا تھا، اب عملی طور پر تعطل کا شکار ہے۔ اگرچہ اس معاہدے میں ایک مشترکہ فلسطینی حکومت کے قیام کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن غزہ اور مغربی کنارے کی زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ تحریری دستاویز سیاسی پیش رفت سے زیادہ ایک نمائشی اقدام ثابت ہو رہی ہے۔
اس معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سکیورٹی کنٹرول پر بنیادی اختلاف ہے۔ فتح، جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے، اس بات پر بضد ہے کہ تمام سکیورٹی ادارے فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت ہوں۔ دوسری جانب حماس اپنے عسکری ونگ، ’عزالدین القسام بریگیڈز‘ کو تحلیل کرنے یا اسے کسی اور کے ماتحت کرنے سے صاف انکاری ہے۔ حماس اسے اپنی طاقت کا بنیادی ذریعہ اور شناخت سمجھتی ہے۔
مالیاتی نگرانی کا معاملہ بھی کسی تنازع سے کم نہیں۔ بین الاقوامی عطیہ دہندگان اس وقت تک غزہ کی تعمیر نو کے لیے فنڈز دینے کو تیار نہیں جب تک انتظامی معاملات میں حماس کا کردار واضح نہ ہو۔ امریکہ اور یورپی یونین کا مطالبہ ہے کہ معاہدے کے تحت بننے والی کوئی بھی حکومت اسرائیل کو تسلیم کرے اور تشدد ترک کر دے۔ حماس ان شرائط کو ماننے سے مسلسل گریزاں ہے، جس کے باعث سفارتی کوششیں بار بار ناکام ہو رہی ہیں۔
قاہرہ میں مقیم ایک سینئر علاقائی تجزیہ کار کا کہنا ہے، "ہم یہاں فلسطینی مستقبل کے دو بالکل متضاد نظریات کی بات کر رہے ہیں۔ ایک فریق سفارتی راستے سے ریاست کے قیام کا خواہاں ہے، جبکہ دوسرا مسلح مزاحمت کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ آپ محض ایک کاغذ پر دستخط کر کے اس نظریاتی خلیج کو ختم نہیں کر سکتے۔”
دوسری طرف فلسطینی عوام میں بھی شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ برسوں کی داخلی لڑائی اور معاشی تنہائی کے بعد، عام فلسطینی اس معاہدے کو محض ایک سیاسی ڈرامہ سمجھتے ہیں۔ غزہ اور رام اللہ میں ہونے والے مظاہرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ لوگوں کو معاہدوں کے دستخطوں سے زیادہ روزگار، بجلی اور بنیادی سکیورٹی کی فکر ہے۔
سعودی عرب سمیت دیگر علاقائی طاقتوں نے اس معاہدے میں کافی سیاسی سرمایہ کاری کی تاکہ خطے میں استحکام لایا جا سکے۔ تاہم، اس معاہدے میں کوئی ایسا موثر طریقہ کار موجود نہیں جو فریقین کو اپنے وعدوں کا پابند بنا سکے۔ کسی غیر جانبدار ثالث کی عدم موجودگی میں، یہ معاہدہ انہی دھڑوں کے رحم و کرم پر ہے جو خود اس کا حصہ ہیں۔
فی الحال یہ معاہدہ تعطل کا شکار ہے۔ جب تک فتح اور حماس یہ فیصلہ نہیں کر لیتے کہ ان کی سیاسی بقا علیحدہ اقتدار کے بجائے اتحاد میں مضمر ہے، مکہ معاہدہ محض اخبارات کی شہ سرخیوں تک محدود رہے گا، جس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔
