کراچی یونیورسٹی کے تدریسی عملے نے تمام سمسٹر امتحانات معطل کر دیے ہیں، جس کے باعث ہزاروں طلبہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔ اساتذہ نے طویل عرصے سے واجب الادا مالی مراعات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی (KUTS) نے منگل کی صبح بائیکاٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ مسلسل بقایا جات کی ادائیگی میں ناکام رہی ہے، جن میں ریسرچ الاؤنس اور پنشن فنڈز شامل ہیں۔ اساتذہ کے مطابق متعدد مذاکرات کے باوجود یونیورسٹی نے ادائیگیوں کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن فراہم نہیں کی۔
ایک سینئر پروفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، “ہم ہر ممکن مذاکراتی راستہ استعمال کر چکے ہیں۔ انتظامیہ ہمارے جائز واجبات کو غیر ضروری سمجھتی ہے، اور اب ہمارے پاس امتحانی عمل روکنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔”
اس صورتحال نے یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات کو متاثر کیا ہے۔ وسط مدتی اور حتمی امتحانات اس ہفتے شیڈول تھے، لیکن اچانک تعلیمی سرگرمیوں کی معطلی سے کیمپس میں افراتفری پھیل گئی ہے۔ امتحانی مراکز پر آنے والے طلبہ کو واپس بھیج دیا گیا، جبکہ کئی شعبہ جات بند رہے اور اساتذہ نے انتظامی بلاک کے باہر احتجاج کیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ، جس کی قیادت وائس چانسلر کر رہے ہیں، نے تاحال کوئی باضابطہ بیان یا بحالی کا منصوبہ جاری نہیں کیا۔ انتظامیہ کے ذرائع مالی بحران اور صوبائی حکومت کی جانب سے گرانٹس کی تاخیر کو وجہ قرار دیتے ہیں، تاہم اساتذہ اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ادارہ غیر ضروری منصوبوں کو ترجیح دیتا ہے جبکہ بنیادی عملے کے حقوق نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب یونیورسٹی کو اس طرح کے بحران کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ مالی مشکلات اور فنڈنگ کی کمی گزشتہ کئی برسوں سے ادارے کو متاثر کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں تنخواہوں کی تاخیر اور تحقیقی منصوبوں میں رکاوٹیں معمول بن چکی ہیں۔ تاہم موجودہ بائیکاٹ کو حالیہ برسوں کا سب سے زیادہ متاثر کن اقدام قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس نے براہِ راست تعلیمی کیلنڈر کو متاثر کیا ہے۔
فی الحال امتحانات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ جب تک انتظامیہ بقایا جات کی ادائیگی کے لیے تحریری یقین دہانی نہیں کراتی، اساتذہ نے امتحانی ڈیوٹی دوبارہ شروع نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ طلبہ اس وقت ایک ایسے ادارے کی جانب سے جواب کے منتظر ہیں جو تاحال خاموش ہے۔
