بھارت اور چین میں کروڑوں کرکٹ شائقین کے لیے آئندہ ورلڈ کپ کی نشریات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہیں۔ نشریاتی حقوق کے تنازعات اور مقامی اسٹریمنگ ضوابط کی وجہ سے بڑے پلیٹ فارمز پر میچوں کی براہ راست نشریات تاحال معلق ہیں۔
یہ تعطل بین الاقوامی گورننگ باڈیز اور علاقائی ڈیجیٹل کمپنیوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پیدا ہوا۔ عالمی سطح پر جہاں شائقین میچ دیکھنے کے لیے تیار ہیں، وہیں دنیا کی دو سب سے بڑی مارکیٹوں میں لائسنسنگ کی ناکامی اور ریگولیٹری رکاوٹوں نے شائقین کے لیے دروازے بند کر دیے ہیں۔
بھارت میں اصل مسئلہ سبسکرپشن کی بھاری قیمتیں اور پلیٹ فارمز کی اجارہ داری ہے۔ نشریاتی حقوق حاصل کرنے والے بڑے نیٹ ورکس نے رسائی کو صرف پریمیم ٹیرز تک محدود کر دیا ہے۔ چھوٹے شہروں کے عام شائقین کے لیے ٹورنامنٹ دیکھنے کی قیمت ہفتہ بھر کے راشن کے برابر ہو چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس اقدام کے خلاف شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور کئی شائقین نے آفیشل اسٹریمنگ کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی ہے۔
چین کی صورتحال زیادہ پیچیدہ ہے۔ ریاستی میڈیا اور نجی ٹیک کمپنیاں ڈیجیٹل سنسرشپ اور مواد کی ترسیل کے پروٹوکولز پر باہمی رسہ کشی میں مصروف ہیں۔ کھیلوں کی نشریات پر حکومت کی بڑھتی ہوئی گرفت نے کئی پلیٹ فارمز کو کوریج روکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں چند دن باقی ہیں لیکن حکومتی سطح پر کسی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آتے۔
میڈیا تجزیہ کار روہن گپتا کا کہنا ہے کہ "ہم ایک ایسا تعطل دیکھ رہے ہیں جہاں شائقین کو محض ایک ضمنی چیز سمجھا جا رہا ہے۔ حقوق کے مالکان ہر ممکن حد تک منافع کمانا چاہتے ہیں، جبکہ ریگولیٹرز ہر پکسل پر کنٹرول چاہتے ہیں۔ میچ دیکھنے کے خواہشمند لوگ اس سارے عمل میں پس کر رہ گئے ہیں۔”
مالی لحاظ سے یہ صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ حقوق کے مالکان اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی بازیابی کے لیے کوشاں ہیں، لیکن مہنگے سبسکرپشن ماڈلز کے ذریعے وہ اسی مارکیٹ کو کھو رہے ہیں جو ٹورنامنٹ کی اصل تجارتی قدر ہے۔ اشتہاری کمپنیاں بھی محتاط رویہ اختیار کر رہی ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کی مہمات اپنے ہدف تک نہیں پہنچ پائیں گی۔
فی الحال اسکرینیں خاموش ہیں۔ ٹورنامنٹ کے آغاز میں اب بہت کم وقت بچا ہے، اور نشریاتی اداروں یا ریگولیٹرز کی جانب سے خاموشی بتاتی ہے کہ کسی سمجھوتے کا امکان دور دور تک نظر نہیں آتا۔ شائقین اب وی پی این (VPN) اور غیر قانونی اسٹریمنگ کا سہارا لے رہے ہیں، جس سے انڈسٹری کو سبسکرپشن فیس کے مقابلے میں کہیں زیادہ طویل مدتی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
