ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ پلوٹو سے بھی آگے موجود ایک چھوٹی برفانی دنیا کے گرد نہایت باریک فضا ہو سکتی ہے، اور اگر یہ دریافت درست ثابت ہوئی تو بیرونی نظامِ شمسی میں موجود دور دراز اجسام کے بارے میں سائنس دانوں کی سمجھ میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس جسم کا باضابطہ نام (612533) 2002 XV93 ہے، یہ کوائپر بیلٹ میں واقع ہے، اور اسے پلوٹینو کہا جاتا ہے۔ اگر اس کے گرد فضا کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ کششِ ثقل سے بندھی ہوئی عالمی فضا رکھنے والا سب سے چھوٹا معلوم جسم بن سکتا ہے۔
اس ممکنہ فضا کا سراغ اسٹیلر آکَلٹیشن کے ذریعے ملا، یعنی وہ لمحہ جب یہ جسم ایک دور دراز ستارے کے سامنے سے گزرا اور اس کی روشنی چند لمحوں کے لیے مدھم ہو گئی۔ ماہرین نے 2024 میں جاپان کی تین دوربینوں سے اس واقعے کا مشاہدہ کیا، اور روشنی میں آنے والی کمی کے انداز نے اشارہ دیا کہ اس برفانی جسم کے گرد ایک باریک فضائی تہہ موجود ہو سکتی ہے۔
اس دریافت کو خاص طور پر اس جسم کے حجم اور مقام کی وجہ سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ یہ دنیا تقریباً 300 میل یا 500 کلومیٹر چوڑی ہے اور سورج سے پلوٹو سے بھی زیادہ دور واقع ہے۔ اب تک کوائپر بیلٹ میں صرف پلوٹو کے گرد فضا کا مشاہدہ کیا گیا تھا۔ محققین کے مطابق اس ممکنہ فضا کی کثافت انتہائی کم ہے — یعنی یہ زمین کی فضا سے 50 لاکھ سے ایک کروڑ گنا پتلی اور پلوٹو کی فضا سے 50 سے 100 گنا زیادہ باریک ہو سکتی ہے۔
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس فضا میں میتھین، نائٹروجن یا کاربن مونو آکسائیڈ شامل ہو سکتی ہے، اگرچہ اس کی حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔ یہ گیس کہاں سے آئی، اس پر بھی کئی امکانات زیرِ غور ہیں۔ ایک امکان یہ ہے کہ یہ برفانی آتش فشانی سرگرمی سے خارج ہوئی ہو، جبکہ دوسرا یہ کہ کسی دمدار ستارے کے ٹکراؤ کے بعد یہ گیس پیدا ہوئی ہو۔
تاہم ماہرین اب بھی احتیاط برت رہے ہیں۔ بیرونی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت بہت دلچسپ ہے، مگر اسے حتمی ماننے سے پہلے آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ آئندہ مشاہدات، خاص طور پر جیمز ویب خلائی دوربین کے ذریعے، یہ واضح کر سکتے ہیں کہ آیا یہ فضا واقعی موجود ہے، اور اگر ہے تو وقت کے ساتھ برقرار رہتی ہے، مدھم پڑتی ہے یا بدلتی ہے۔
اگر یہ دریافت درست ثابت ہوئی تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہوگا کہ پلوٹو سے آگے ایک اور عجیب دنیا مل گئی ہے، بلکہ یہ بھی کہ کوائپر بیلٹ کے چھوٹے برفانی اجسام بھی مناسب حالات میں فضا برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس سے بیرونی نظامِ شمسی کی پیچیدگی اور سرگرمی کے بارے میں ہماری سمجھ کہیں زیادہ وسیع ہو جائے گی۔
