اورنگی ٹاؤن کے علاقے میں منگل کے روز ایک 25 سالہ نوجوان کی لاش اس کے گھر سے ملی۔ مقتول کی شادی کو ابھی چند ہفتے ہی گزرے تھے، جبکہ لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی اور ہاتھ پاؤں رسیوں سے بندھے ہوئے تھے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ مقتول کی شناخت محمد ذیشان کے نام سے ہوئی ہے۔ ابتدائی معائنے کے دوران کمرے میں زبردستی داخل ہونے کے کوئی واضح نشانات نہیں ملے، تاہم مقتول کے ہاتھ پاؤں بندھے ہونے کے باعث پولیس نے خودکشی کے نظریے کو مسترد کرتے ہوئے اسے قتل کا مقدمہ قرار دیا ہے۔
ایک اعلیٰ پولیس افسر نے میڈیا کو بتایا کہ "لاش کی حالت اور بندھے ہوئے ہاتھ پاؤں خودکشی کے دعوے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ہم ہر پہلو سے تفتیش کر رہے ہیں۔” پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے عباسی شہید ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ طبی ماہرین کی رپورٹ سے یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا نوجوان کو مارنے کے بعد لٹکایا گیا یا اسے پہلے ہی بے بس کر دیا گیا تھا۔
مقتول کے اہل خانہ صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ ذیشان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی اور وہ اپنی نئی ازدواجی زندگی میں خوش تھا۔ محلے داروں کے مطابق، وہ ایک خاموش طبع انسان تھا جو زیادہ تر اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔
اورنگی ٹاؤن پولیس نے جائے وقوعہ کو سیل کر کے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ تفتیشی ٹیم اب مقتول کے موبائل فون ریکارڈز کی جانچ پڑتال کر رہی ہے اور قریبی گھروں میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ آخری گھنٹوں کی سرگرمیوں کا سراغ لگایا جا سکے۔
فی الحال پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ کیا یہ کوئی ذاتی انتقام تھا یا کوئی اور مقصد؟ اس کا جواب پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فرانزک شواہد کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ فی الوقت، مقتول کا خاندان ہسپتال میں رپورٹ کے منتظر ہے تاکہ اس المناک موت کی اصل وجہ معلوم ہو سکے۔
