صدر آصف علی زرداری نے باضابطہ طور پر پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس 10 جون کو طلب کر لیے ہیں، جس سے ایک اہم قانون سازی ہفتے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس شام 5:00 بجے ہوگا جبکہ سینیٹ کا اجلاس اس کے فوراً بعد منعقد کیا جائے گا۔
یہ وقت محض اتفاقی نہیں ہے۔ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے قریب آنے کے ساتھ حکومت شدید دباؤ کا شکار ہے کہ وہ اپنی مالی حکمتِ عملی کو حتمی شکل دے۔ یہ اجلاس حکومت کے معاشی ایجنڈے کو پیش کرنے اور فنانس بل کی منظوری کے لیے پارلیمانی حمایت حاصل کرنے کا مرکزی پلیٹ فارم ہیں۔
اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی حکومت کی ٹیکس میں اضافے اور کفایت شعاری کے اقدامات پر سخت تنقید کا ارادہ ظاہر کر چکی ہیں۔ حکومتی اتحاد کے لیے یہ اجلاس معمول کی کارروائی نہیں بلکہ ان کی قانون سازی کی طاقت کا امتحان ہیں، کیونکہ انہیں آئی ایم ایف کی شرائط اور مہنگائی سے پریشان عوامی ردعمل کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق قانون سازی کے ایجنڈے میں بجٹ کے عمل کو ترجیح دی جائے گی، تاہم کچھ زیر التوا آرڈیننس بھی پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 54(1) کے تحت کیا گیا ہے، جس کے مطابق صدر وزیر اعظم کے مشورے پر اجلاس طلب کرتے ہیں۔
امکان ہے کہ اجلاس خاصا گرم رہے گا۔ اپوزیشن کے اراکین، خاص طور پر پی ٹی آئی سے وابستہ ارکان، بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے اور مجموعی معاشی عدم استحکام جیسے مسائل پر حکومت کو سخت گھیرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
اگرچہ سرکاری ایجنڈا بجٹ تک محدود ہے، لیکن ایوان کی کارروائی سیاسی کشمکش کا میدان بننے کا امکان ہے۔ حکومت اس اجلاس میں ایک نازک صورتحال کا سامنا کر رہی ہے: ایک سخت بجٹ منظور کرنا تاکہ بین الاقوامی قرض دہندگان کو مطمئن کیا جا سکے، مگر ساتھ ہی پارلیمانی بغاوت سے بچنا بھی ضروری ہے۔
