ریاض کی سیکیورٹی فورسز نے ایک ہفتے کے دوران 13 ہزار 724 غیر قانونی رہائشیوں کو حراست میں لے کر ملک بدر کر دیا۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ کارروائیاں 29 اگست سے 4 ستمبر کے درمیان ملک بھر میں کی گئیں۔
گرفتار ہونے والوں میں بڑی تعداد ان افراد کی ہے جنہوں نے اقامہ، لیبر اور سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق 8 ہزار 421 افراد رہائشی قوانین، 3 ہزار 366 افراد سرحدی سیکیورٹی اور 1 ہزار 937 افراد لیبر قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے۔
سعودی حکومت کا یہ اقدام "ویژن 2030” کا حصہ ہے جس کا مقصد لیبر مارکیٹ کو دستاویزی شکل دینا اور غیر قانونی ورک فورس کے اثرات کو ختم کرنا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ غیر قانونی تارکینِ وطن نہ صرف ملکی معیشت پر بوجھ ہیں بلکہ سیکیورٹی کے لیے بھی چیلنج ہیں۔
سعودی وزارتِ داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو پناہ دینے، ملازمت دینے یا نقل و حمل میں مدد کرنے والے افراد کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسے معاونین کو 15 سال قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں سے تعمیراتی اور سروس سیکٹر میں وقتی طور پر لیبر کی کمی پیدا ہو سکتی ہے، لیکن ریاض انتظامیہ طویل مدتی نظم و ضبط پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ زیادہ تر گرفتار ہونے والے تارکینِ وطن کا تعلق جنوبی ایشیا اور افریقی ممالک سے ہے، جو اکثر کفالت کے نظام میں تبدیلی یا اقامہ کی میعاد ختم ہونے کے بعد غیر قانونی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع ہنگامی نمبرز پر دیں۔ ریاض کے لیے پیغام واضح ہے: قوانین کی عملداری اب اولین ترجیح ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت باقی نہیں رہی۔
