میر رضا علی کیس کی تحقیقات ایک اہم موڑ پر پہنچ چکی ہیں۔ تفتیشی حکام نے اب کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل شواہد پر انحصار بڑھا دیا ہے، جس کے تحت واٹس ایپ میٹا ڈیٹا اور چیٹ لاگز تک رسائی حاصل کرنے کی باقاعدہ کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔
ابتدائی مرحلے میں جسمانی شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات سے تفتیشی ٹیم کو کوئی ٹھوس سراغ نہیں مل سکا تھا۔ اب تحقیقات کا سارا زور واقعے سے قبل کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق، کیس کے مرکزی کرداروں کی جانب سے ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال اب تفتیش کاروں کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
ایک تفتیش کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "روایتی ذرائع سے ملنے والی معلومات محدود تھیں۔ اب ہمیں ٹائم لائن میں موجود خلا کو پر کرنے کے لیے ڈیجیٹل ریکارڈ درکار ہے۔ اگر یہ ڈیٹا مل جاتا ہے تو کیس کے تمام پہلو واضح ہو جائیں گے۔”
ڈیجیٹل ڈیٹا تک رسائی کا عمل پیچیدہ ہے۔ پرائیویسی پروٹوکولز اور بین الاقوامی ڈیٹا شیئرنگ کے قوانین کے باعث اسے حاصل کرنا قانونی چیلنجز سے بھرا ہوا ہے۔ تاہم، تفتیشی ٹیم کا ماننا ہے کہ صرف پیغامات ہی نہیں، بلکہ جیو لوکیشن ٹیگز اور ڈیلیٹ شدہ میڈیا بھی ان کے کام آ سکتے ہیں۔ یہ شواہد موجودہ مشتبہ افراد کی فہرست کی تصدیق یا تردید کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔
اس پیش رفت نے کیس میں شامل قانونی ٹیموں کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اگر یہ ڈیجیٹل شواہد عدالت میں پیش کیے گئے تو یہ استغاثہ کے لیے ایک مضبوط کیس بن سکتا ہے۔ دوسری جانب، دفاعی وکلاء کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل ڈیٹا کی مستند حیثیت اور اس کے ‘چین آف کسٹڈی’ پر ہر صورت سوال اٹھائے جائیں گے۔ تکنیکی غلطی کی معمولی سی گنجائش بھی پورے کیس کو کمزور کر سکتی ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ میر رضا علی کہاں تھے، بلکہ یہ ہے کہ ان کا ڈیجیٹل فٹ پرنٹ کیا کہانی سناتا ہے۔ فرانزک تجزیے کے اگلے چند دن یہ طے کریں گے کہ آیا یہ کیس کسی نتیجے کی طرف بڑھتا ہے یا پھر طویل قانونی جنگ میں الجھ کر رہ جائے گا۔
