آسٹریلیا، جو اب تک دنیا کا واحد براعظم تھا جہاں وائرس نہیں پہنچا تھا، اب اس وائرس کی زد میں آ چکا ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک مقامی سمندری ممالیہ (ایلیفینٹ سیل) میں اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ پیش رفت ملک کی بائیو سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
یہ وائرس ایک دور دراز واقع سب-انٹارکٹک جزیرے پر پایا گیا۔ اگرچہ حکام نے جزیرے کے نام کو خفیہ رکھا ہے تاکہ انسانی نقل و حرکت کو محدود کیا جا سکے، لیکن ماہرینِ حیاتیات کا کہنا ہے کہ یہ وائرس اب آسٹریلیا کے منفرد جنگلی حیات کے نظام کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
حکام کے مطابق، یہ سیل غیر معمولی اعصابی علامات ظاہر کر رہا تھا جس کے بعد اسے طبی نگرانی میں لیا گیا۔ لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج نے اس خدشے کو سچ ثابت کر دیا کہ یہ وہی H5 قسم کا وائرس ہے جو اس وقت یورپ اور امریکہ میں پرندوں اور ممالیہ جانوروں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
محکمہ زراعت کے ایک ترجمان نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم اس صورتحال کے لیے تیاری کر رہے تھے، لیکن ایسے ماحول میں جہاں انسانی مداخلت ممکن نہ ہو، وائرس کو کنٹرول کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔”
سوال یہ ہے کہ اس کا اثر کیا ہوگا؟ آسٹریلیا کا ایکو سسٹم صدیوں سے ان خطرناک جراثیموں سے محفوظ رہا ہے۔ اگر یہ وائرس ملک کے اندرونی علاقوں تک پہنچ گیا تو پرندوں اور دیگر آبی حیات کی نایاب نسلیں شدید خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ حکومت نے فی الحال عوام کے لیے خطرے کو "انتہائی کم” قرار دیا ہے، لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس کا پرندوں سے ممالیہ جانوروں میں منتقل ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ اپنی نوعیت بدل رہا ہے۔
ماہرینِ حیاتیات اب ان جزائر پر نگرانی کا دائرہ کار وسیع کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ صرف ایک انفرادی کیس تھا یا وائرس پہلے ہی بڑے پیمانے پر پھیل چکا ہے۔
فی الحال کوئی بھی حتمی دعویٰ کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ حکام کی حکمت عملی فی الحال صرف مشاہدے تک محدود ہے، کیونکہ اس دور دراز علاقے میں وائرس کا مقابلہ کرنا ناممکن ہے۔ وائرس سرحد پار کر چکا ہے؛ اب اصل امتحان یہ ہے کہ آسٹریلیا اسے اپنے مرکزی علاقوں تک پہنچنے سے کیسے روکتا ہے۔
