سعودی عرب نے کہا ہے کہ ویژن 2030 اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور اب توجہ اصلاحات کے اعلانات کے بجائے ان کے عملی نتائج پر مرکوز ہوگی۔ سعودی حکام کے مطابق 2026 اس منصوبے کے تیسرے اور آخری مرحلے کا آغاز ہے، جسے “مکمل عمل درآمد” کا دور قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومت اس دعوے کو مضبوط معاشی اعداد و شمار کے ساتھ جوڑ رہی ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی حقیقی جی ڈی پی 2025 میں 4.5 فیصد بڑھی، جبکہ غیر تیل شعبوں میں 4.9 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔ ان اعداد و شمار کو اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے کہ معیشت کی تنوع کاری اب صرف پالیسی نعرہ نہیں رہی بلکہ عملی شکل اختیار کر رہی ہے۔
یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ ویژن 2030 ابتدا ہی سے ایک بڑے معاشی اور سماجی تبدیلی پروگرام کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد سعودی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر نجی شعبے، سرمایہ کاری، سیاحت، لاجسٹکس، ٹیکنالوجی، کان کنی اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کی طرف لے جانا تھا۔ آخری مرحلہ اب یہ طے کرے گا کہ یہ تبدیلیاں واقعی مستقل بنیادوں پر نظام کا حصہ بنتی ہیں یا نہیں۔
سرکاری سالانہ رپورٹنگ کے مطابق ویژن 2030 کے بیشتر کارکردگی اشاریے یا تو مکمل ہو چکے ہیں یا ہدف کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس سے ریاض کو یہ مؤقف اختیار کرنے میں مدد ملتی ہے کہ منصوبہ محض تشہیری مہم نہیں بلکہ قابلِ پیمائش نتائج دے رہا ہے۔ تاہم آخری مرحلہ ہمیشہ زیادہ کڑی جانچ بھی ساتھ لاتا ہے، کیونکہ اسی مرحلے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون سی اصلاحات نے واقعی معیشت کا ڈھانچہ بدلا اور کون سی ابھی تک کاغذی یا محدود دائرے میں ہیں۔
اس وقت سعودی عرب کے حق میں سب سے مضبوط دلیل غیر تیل شعبوں کی ترقی ہے۔ یہی وہ پیمانہ ہے جس کے ذریعے یہ جانچا جا رہا ہے کہ آیا ویژن 2030 واقعی معیشت کو وسیع اور متنوع بنا رہا ہے یا نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری، لیبر مارکیٹ اصلاحات اور نئے شعبوں کی ترقی نے اس عمل کو تقویت دی ہے، جس سے معیشت آہستہ آہستہ خام تیل سے کم وابستہ ہو رہی ہے۔
اس کے باوجود اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ ویژن 2030 میں بڑے منصوبوں، بلند اہداف اور عالمی توجہ کی کبھی کمی نہیں رہی۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا سعودی عرب ان منصوبوں کو مستقل روزگار، مضبوط نجی شعبے اور ایسی معیشت میں بدل پاتا ہے جو تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے نسبتاً کم متاثر ہو۔ مملکت اپنے سب سے اہم قومی تبدیلی پروگرام کے اختتامی مرحلے میں اعتماد کے ساتھ داخل ہو رہی ہے، مگر فیصلہ آخرکار عمل درآمد ہی کرے گا۔
