کراچی میں اتوار، 26 اپریل 2026 کو کھیلے گئے پاکستان سپر لیگ 11 کے اہم لیگ میچ میں حیدرآباد کنگزمنز نے راولپنڈیز کو 108 رنز سے ہرا کر پلے آف میں جگہ بنا لی۔ حیدرآباد نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 244/6 بنائے، پھر راولپنڈیز کو 17.1 اوورز میں 136 رنز پر ڈھیر کر دیا۔ اس بڑی جیت کے ساتھ حیدرآباد نے نیٹ رن ریٹ بہتر کر کے آخری پلے آف نشست اپنے نام کر لی۔
میچ سے پہلے حساب کافی واضح تھا مگر آسان نہیں تھا۔ رپورٹس کے مطابق حیدرآباد کو نہ صرف جیت درکار تھی بلکہ اتنے بڑے مارجن سے جیتنا بھی ضروری تھا کہ وہ لاہور قلندرز کو نیٹ رن ریٹ پر پیچھے چھوڑ سکے۔ راولپنڈیز کو 158 یا اس سے کم پر روکنا اس مشن کا بنیادی حصہ تھا، اور حیدرآباد نے یہ ہدف بھی آرام سے حاصل کر لیا۔ اس نتیجے کے بعد دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے۔
حیدرآباد کی اننگز میں گلین میکسویل نے جارحانہ 70 رنز بنائے، عثمان خان نے 54 رنز جوڑے، جبکہ کُسل پریرا 50 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ آخری اوورز میں میکسویل اور پریرا کی شراکت نے میچ کا رخ مکمل طور پر حیدرآباد کے حق میں موڑ دیا اور 244 کا مجموعہ ایسا ہدف بن گیا جس نے راولپنڈیز پر ابتدا ہی سے دباؤ ڈال دیا۔
جواب میں راولپنڈیز کی جانب سے عثمان خواجہ نے 66 ناٹ آؤٹ رنز بنا کر کچھ مزاحمت کی، لیکن دوسری طرف وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں۔ حنائن شاہ نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 4/22 حاصل کیے اور راولپنڈیز کی امیدیں تقریباً ختم کر دیں۔ انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا۔
حیدرآباد کی کہانی صرف ایک بڑی جیت کی نہیں، ایک بھرپور واپسی کی بھی ہے۔ ٹیم نے اپنے ڈیبیو PSL سیزن کا آغاز مسلسل چار شکستوں سے کیا تھا، اور سیزن کے اوائل میں ایسا لگ رہا تھا کہ وہ دوڑ سے جلد باہر ہو جائے گی۔ اسی دوران لاہور قلندرز نے افتتاحی میچ میں انہیں 69 رنز سے شکست بھی دی تھی۔ لیکن لیگ مرحلے کے اختتام تک یہی ٹیم پلے آف کی دوڑ میں واپس آئی اور پھر آخری میچ میں فیصلہ کن انداز میں اپنا کام مکمل کر گئی۔
اس نتیجے نے پوائنٹس ٹیبل پر بھی بڑا اثر ڈالا۔ جیو سپر کی تازہ کوریج کے مطابق حیدرآباد کنگزمنز 10 میچوں میں 10 پوائنٹس تک پہنچے اور بہتر نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر آگے نکل گئے، جبکہ لاہور قلندرز بھی 10 پوائنٹس پر ہونے کے باوجود باہر ہو گئے۔ یوں لیگ مرحلے کے آخری دن حیدرآباد نے دباؤ میں وہ کارکردگی دکھائی جس نے پورے سیزن کی سمت بدل دی۔
اب پلے آف میں داخل ہونے والی حیدرآباد کے لیے سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ ٹیم صرف کوالیفائی نہیں ہوئی، بلکہ زبردست مومینٹم کے ساتھ اگلے مرحلے میں پہنچی ہے۔ بڑے مجموعے، پاور ہٹنگ، اور دباؤ میں بولنگ—اتوار کے میچ میں یہ تینوں چیزیں ایک ساتھ نظر آئیں۔ T20 کرکٹ میں ایسے وقت پر فارم پکڑ لینا اکثر بہت دور تک لے جاتا ہے، اور حیدرآباد اب اسی امید کے ساتھ آگے بڑھے گی۔
