فلم وِکڈ میں نیساروز کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ ماریسا بوڈے نے سدرن ایئرویز پر الزام لگایا ہے کہ ایئرلائن نے انہیں صرف اس لیے اپنی کنیکٹنگ پرواز میں سوار نہیں ہونے دیا کیونکہ وہ وہیل چیئر استعمال کرتی ہیں۔ یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ چھوٹی علاقائی ایئرلائنز معذور مسافروں کے ساتھ برتاؤ کے معاملے میں کہاں کھڑی ہیں۔
ماریسا بوڈے نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ وہ پنسلوانیا میں ایک اسپیکنگ ایونٹ کے لیے سفر کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق ابتدائی پرواز میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا، مگر کنیکٹنگ فلائٹ کے وقت سدرن ایئرویز کے عملے نے انہیں بتایا کہ اس چھوٹے طیارے میں سوار ہونے کے لیے سیڑھیاں چڑھنا لازمی ہے، اور چونکہ وہ ایسا نہیں کر سکتیں، اس لیے انہیں جہاز میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بوڈے کے بقول، ان کی ٹیم نے سفر سے پہلے معاونت کے انتظام کی کوشش بھی کی تھی۔ اس کے باوجود، جب انہیں بورڈنگ سے روک دیا گیا تو ان کے پاس زمینی سفر کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ انہوں نے بتایا کہ آخرکار انہیں تقریباً ساڑھے تین گھنٹے گاڑی میں سفر کر کے اپنی منزل تک پہنچنا پڑا تاکہ وہ تقریب میں شرکت کر سکیں۔
اداکارہ نے اس تجربے کو نہ صرف توہین آمیز بلکہ امتیازی بھی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ان کے ساتھ پیش آنے والا ایک الگ واقعہ نہیں، بلکہ معذور افراد کو سفر کے دوران روزمرہ بنیادوں پر جن رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ اسی بڑے مسئلے کی ایک واضح مثال ہے۔
اس معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب بوڈے نے دعویٰ کیا کہ ایئرلائن کے عملے سے پوچھنے پر انہیں ایسا تاثر ملا کہ ان کے ہاں اس نوعیت کے معذور مسافروں کے لیے سفر تقریباً غیر معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔ یہی پہلو اس واقعے کو ایک نجی شکایت سے نکال کر ایک وسیع عوامی بحث میں لے آیا ہے، جہاں سوال صرف ایک پرواز کا نہیں بلکہ پورے نظام کی رسائی، تربیت اور حساسیت کا ہے۔
سدرن ایئرویز کی جانب سے اس معاملے پر ایسی مفصل عوامی وضاحت سامنے نہیں آئی جس میں بوڈے کے الزامات کا براہِ راست جواب دیا گیا ہو، البتہ مختلف رپورٹس کے مطابق ایئرلائن نے کہا ہے کہ وہ معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور بعد میں اداکارہ سے رابطہ بھی کیا گیا۔ ایئرلائن کی دستیاب پالیسی دستاویزات میں یہ ضرور درج ہے کہ اس کے بعض چھوٹے طیاروں میں مسافروں کے لیے سیڑھیاں چڑھنے اور اترنے کی صلاحیت ضروری ہوتی ہے، جبکہ کچھ چھوٹے جہاز امریکی فضائی رسائی کے چند مخصوص قواعد سے جزوی استثنا بھی رکھتے ہیں۔
لیکن اصل بحث یہیں ختم نہیں ہوتی۔ امریکی محکمۂ ٹرانسپورٹیشن کے مطابق ایئر کیریئر ایکسس ایکٹ کے تحت ایئرلائنز کو معذوری کی بنیاد پر مسافروں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کی اجازت نہیں۔ قوانین یہ بھی کہتے ہیں کہ معذور مسافروں کو عزت، واضح معلومات اور مناسب معاونت فراہم کی جانی چاہیے، خاص طور پر ہوائی اڈے کے اندر نقل و حرکت سے متعلق سہولتوں کے معاملے میں۔
اسی لیے اب اہم سوال یہ نہیں کہ طیارہ چھوٹا تھا یا اس میں سیڑھیاں تھیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایئرلائن نے اس صورتحال کو قانونی، شفاف اور انسانی انداز میں سنبھالا؟ اور کیا ایک ایسے مسافر کو، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ پیشگی معاونت کی درخواست دی گئی تھی، وہ تمام ممکنہ سہولتیں فراہم کی گئیں جو دی جانی چاہییں تھیں؟
ماریسا بوڈے اس سے پہلے بھی وہیل چیئر استعمال کرنے والے مسافروں کو درپیش مشکلات پر آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ وہ بارہا اس بات کی نشاندہی کر چکی ہیں کہ ہوائی سفر معذور افراد کے لیے صرف ایک سفری عمل نہیں، بلکہ اکثر ایک ذہنی دباؤ، غیر یقینی صورتحال اور غیر مناسب برتاؤ کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ ان کے تازہ الزامات نے اسی پرانی بحث کو پھر سے زندہ کر دیا ہے۔
اس واقعے نے خاص توجہ اس لیے بھی حاصل کی کیونکہ بوڈے نے اسے کسی غلط فہمی کے بجائے واضح اخراج کے طور پر بیان کیا۔ ان کے الفاظ میں، مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ وہ جہاز تک نہیں پہنچ سکیں، بلکہ یہ تھا کہ انہیں یہ احساس دلایا گیا کہ جیسے ان کے لیے وہاں جگہ ہی نہیں۔
فی الحال عوام کے سامنے موجود تصویر زیادہ تر بوڈے کے بیان اور ایئرلائن کی پالیسی دستاویزات پر مبنی ہے۔ تاہم، اتنا ضرور واضح ہے کہ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ جدید فضائی سفر میں معذور مسافروں کے حقوق کاغذوں میں زیادہ محفوظ ہیں یا عملی طور پر بھی۔
