این ہیتھاوے اپنی نئی فلم مدر میری میں ایک ایسی عالمی شہرت یافتہ پاپ اسٹار کے کردار میں نظر آ رہی ہیں جو بظاہر چمک دمک کے عروج پر ہے، مگر اندر سے ٹوٹ رہی ہے۔ ڈیوڈ لوری کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں ہیتھاوے ایک پیچیدہ، زخمی اور غیر مستحکم شخصیت ادا کرتی ہیں، جو واپسی کی کوشش کے دوران اپنے ماضی، اپنے تعلقات اور اپنی شناخت سے دوبارہ ٹکراتی ہے۔
فلم میں مائیکلا کوئل نے سیم اینسلم کا کردار ادا کیا ہے، جو مدر میری کی سابق قریبی ساتھی اور تخلیقی شریک رہی ہے۔ کہانی اس وقت شدت اختیار کرتی ہے جب ایک پراسرار واقعے کے بعد مدر میری دوبارہ سیم کی زندگی میں داخل ہوتی ہے۔ بظاہر یہ ایک لباس، ایک شو اور ایک comeback کی کہانی لگتی ہے، مگر جلد ہی واضح ہو جاتا ہے کہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ یہ دو عورتوں کے درمیان پرانے زخموں، دبے ہوئے غصے اور نامکمل تعلق کی کہانی بھی ہے۔
این ہیتھاوے نے اس کردار کے لیے خاصی سخت تیاری کی۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے آواز، جسمانی حرکات اور اسٹیج پرفارمنس پر طویل عرصے تک کام کیا تاکہ کردار محض ایک “پاپ اسٹار” نہ لگے بلکہ ایک حقیقی، اندر سے بکھری ہوئی مشہور شخصیت محسوس ہو۔ بعض انٹرویوز میں یہ بھی سامنے آیا کہ ایک اہم ڈانس سین کے لیے انہوں نے روزانہ کئی گھنٹے مشق کی۔ یہی محنت پردے پر ان کی موجودگی کو زیادہ مؤثر بناتی ہے۔
مدر میری کو صرف ایک میوزک ڈراما کہنا شاید کافی نہیں ہوگا۔ اس میں شہرت کی قیمت، ذہنی دباؤ، تخلیقی کنٹرول، اور تنہائی جیسے موضوعات ایک غیر معمولی انداز میں سامنے آتے ہیں۔ فلم بظاہر glamorous ہے، لیکن اس کے اندر ایک بے چینی مسلسل موجود رہتی ہے۔ یہی چیز اسے عام بایوپک یا پاپ کلچر فلموں سے الگ بناتی ہے۔
فلم کے موسیقی والے پہلو نے بھی خاص توجہ حاصل کی ہے۔ اس کے گانوں کی تیاری میں جیک اینٹونوف اور چارلی ایکس سی ایکس جیسے ناموں کی شمولیت نے شائقین کی دلچسپی مزید بڑھا دی ہے۔ لیکن اصل کشش شاید یہ ہے کہ این ہیتھاوے نے اس کردار کو نقل کے طور پر نہیں، بلکہ ایک مکمل نفسیاتی تجربے کے طور پر ادا کیا ہے۔ وہ صرف ایک گلوکارہ نہیں بنتیں، بلکہ شہرت کے دباؤ میں جیتی ایک ایسی عورت دکھائی دیتی ہیں جس کے لیے اسٹیج اور ذاتی زندگی کے درمیان حد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
یہ کردار آسانی سے مبالغہ آمیز یا مصنوعی ہو سکتا تھا، مگر ابتدائی تاثر یہی ہے کہ ہیتھاوے نے اسے پوری شدت کے ساتھ نبھایا ہے۔ مدر میری شاید ہر ناظر کے لیے آسان فلم نہ ہو، لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس میں این ہیتھاوے کا کام نمایاں، جرات مند اور یاد رہ جانے والا محسوس ہوتا ہے۔
