اسلام آباد: پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، یعنی آئی ایم ایف، کا اگلا بڑا مرحلہ 8 مئی کو سامنے آ سکتا ہے، جب فنڈ کا ایگزیکٹو بورڈ پاکستان کے کیس پر غور کرے گا۔ اگر منظوری مل گئی تو پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر سے زائد کی نئی رقم جاری ہو سکتی ہے، جو موجودہ بیل آؤٹ پروگرام اور موسمیاتی معاونت کی سہولت، دونوں کے تحت آئے گی۔ آئی ایم ایف نے 27 مارچ 2026 کو پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کی تصدیق کی تھی، تاہم رقم کے اجراء کے لیے آخری منظوری اب بھی ایگزیکٹو بورڈ سے درکار ہے۔
اس متوقع رقم میں تقریباً 1 ارب ڈالر پاکستان کے 37 ماہ کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) پروگرام کے تحت ملیں گے، جبکہ لگ بھگ 210 ملین ڈالر ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے۔ آئی ایم ایف کے مطابق بورڈ منظوری کے بعد دونوں انتظامات کے تحت پاکستان کی مجموعی رسائی تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ایگزیکٹو بورڈ کیلنڈر میں یہ اجلاس ابھی نظر نہیں آتا، مگر اس کی ایک وجہ خود فنڈ کا طریقہ کار ہے۔ آئی ایم ایف واضح طور پر کہتا ہے کہ وہ صرف اگلے سات دن کا عارضی کیلنڈر جاری کرتا ہے، اور اجلاس کا ایجنڈا عموماً اجلاس سے ایک دن پہلے حتمی شکل پاتا ہے۔ اسی لیے پاکستان سے متعلق 8 مئی کی تاریخ میڈیا اور حکومتی ذرائع میں گردش کر رہی ہے، لیکن سرکاری کیلنڈر پر فوری طور پر دکھائی دینا ضروری نہیں۔
حکومتی حلقوں اور مقامی رپورٹوں کے مطابق پاکستان اس مرحلے تک نسبتاً بہتر تیاری کے ساتھ پہنچا ہے۔ حالیہ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں یہ تاثر دیا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ تکنیکی مرحلہ مکمل کر لیا ہے اور اب نظریں بورڈ منظوری پر ہیں۔ ڈان اور دیگر پاکستانی ذرائع کے مطابق اسلام آباد کو امید ہے کہ اس منظوری کے بعد بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کچھ کمی آئے گی۔
اصل اہمیت صرف رقم تک محدود نہیں۔ یہ فیصلہ اس بات کا بھی اشارہ ہوگا کہ آئی ایم ایف پاکستان کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحاتی رفتار کو اب بھی مجموعی طور پر درست سمت میں دیکھ رہا ہے۔ مارچ کے اسٹاف لیول معاہدے میں فنڈ نے کہا تھا کہ پروگرام کی معاونت سے معیشت میں کچھ استحکام آیا، مارکیٹ کا اعتماد بہتر ہوا اور مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی کوششیں جاری رہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح ہے کہ بورڈ کی منظوری ملنے کے بعد پاکستان پر ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے کی تبدیلی، اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کا دباؤ بدستور قائم رہے گا۔
یوں دیکھا جائے تو 8 مئی کا اجلاس پاکستان کے لیے محض ایک رسمی کارروائی نہیں، بلکہ ایک اہم مالی اور پالیسی اشارہ ہے۔ 1.2 ارب ڈالر سے زائد کی ممکنہ رقم زرمبادلہ کی صورتحال کو سہارا دے سکتی ہے، مگر اصل امتحان اس کے بعد بھی باقی رہے گا: کیا پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کی سخت شرائط پر مستقل مزاجی سے عمل جاری رکھ پاتا ہے یا نہیں۔ فی الحال اسلام آباد کی نظریں واشنگٹن پر جمی ہوئی ہیں۔
