صدر آصف علی زرداری نے بدھ کے روز چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے “ترجیحی شعبوں” میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی، خاص طور پر متبادل توانائی، واٹر ٹریٹمنٹ اور الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹری سسٹمز کے شعبوں میں۔ یہ بات سرکاری ریڈیو پاکستان کی رپورٹ میں بتائی گئی، جس کے مطابق صدر نے یہ دعوت چین کے شہر سانیا میں ہینگژو جن جیانگ گروپ کے چیف ایگزیکٹو وانگ جیان سے ملاقات کے دوران دی۔
یہ ملاقات صدر زرداری کے چین کے سرکاری دورے کے دوران ہوئی، جو 25 اپریل سے یکم مئی 2026 تک جاری ہے۔ اسلام آباد پہلے ہی واضح کر چکا تھا کہ اس دورے کا بنیادی مقصد پاک چین اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینا، تجارت بڑھانا اور سی پیک سے متعلق تعاون کو آگے بڑھانا ہے۔
صدر زرداری کی گفتگو سے یہ تاثر صاف ملا کہ پاکستان اب صرف روایتی انفراسٹرکچر منصوبوں تک محدود نہیں رہنا چاہتا۔ حکومت کی توجہ اب ایسے شعبوں پر ہے جو معیشت کو طویل مدت میں سہارا دے سکیں۔ متبادل توانائی اس لیے اہم ہے کہ پاکستان کو مہنگی بجلی، درآمدی ایندھن پر انحصار اور توانائی کے عدم توازن جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اسی طرح واٹر ٹریٹمنٹ کا شعبہ شہری آبادی، صنعت اور ماحولیاتی دباؤ کے تناظر میں خاص اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹری سسٹمز کا ذکر بھی غیر معمولی نہیں تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان اب نئی صنعتی اور ٹیکنالوجی سپلائی چینز میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ حکومت کی حالیہ معاشی پالیسی میں یہ سوچ نمایاں ہے کہ چین کے ساتھ تعاون کو سی پیک کے اگلے مرحلے میں زیادہ صنعتی، زیادہ ٹیکنالوجی پر مبنی اور نسبتاً ماحول دوست سمت دی جائے۔
حالیہ ہفتوں میں پاکستانی حکام کی جانب سے بھی یہی پیغام سامنے آتا رہا ہے۔ چینی کمپنیوں کو پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی، مینوفیکچرنگ اور دیگر ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جاتی رہی ہے۔ یوں صدر زرداری کی سانیا میں ہونے والی ملاقات ایک بڑے معاشی پیغام کا حصہ دکھائی دیتی ہے، نہ کہ محض ایک رسمی ملاقات۔
پاکستان کے لیے چینی سرمایہ کاری کی اہمیت نئی بات نہیں۔ سی پیک کے تحت توانائی، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کے کئی منصوبے پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں یا ان پر کام جاری ہے۔ تاہم اب اسلام آباد کی کوشش یہ ہے کہ تعاون کا اگلا مرحلہ صرف سڑکوں اور پاور پلانٹس تک محدود نہ رہے بلکہ صنعت، صاف توانائی، پانی کے نظام اور نئی ٹیکنالوجی تک پھیل جائے۔
البتہ ایک سوال بدستور موجود ہے: کیا یہ سفارتی اور کاروباری رابطے جلد عملی منصوبوں میں بدلیں گے؟ ماضی میں بھی کئی اعلانات اور مفاہمتیں سامنے آتی رہی ہیں، مگر ہر پیش رفت فوری طور پر زمین پر نظر نہیں آتی۔ اس کے باوجود، صدر زرداری کی یہ اپیل اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان اس وقت چینی سرمایہ کاری کو اپنی معاشی حکمت عملی کے اہم ترین ستونوں میں شمار کر رہا ہے۔
مختصر طور پر، صدر زرداری نے اپنے دورۂ چین کے دوران چینی سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان متبادل توانائی، پانی کی صفائی اور الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق صنعتوں میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے، اور حکومت چاہتی ہے کہ پاک چین معاشی تعاون اب ایک نئے اور زیادہ جدید مرحلے میں داخل ہو۔
