شمالی لندن کے علاقے اسٹیمفورڈ ہل میں ایک شخص پر چاقو سے حملے کے بعد برطانوی انسدادِ دہشت گردی پولیس نے تحقیقات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ میٹروپولیٹن پولیس نے تصدیق کی ہے کہ یہ واقعہ جمعرات کی صبح پیش آیا، جس نے مقامی یہودی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
زخمی ہونے والا شخص، جس کی عمر 50 سال کے قریب ہے، تاحال ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ اگرچہ پولیس نے ابھی تک اس حملے کو باقاعدہ طور پر دہشت گردی کی کارروائی قرار نہیں دیا، لیکن ‘کاؤنٹر ٹیررازم کمانڈ’ کی براہِ راست مداخلت ظاہر کرتی ہے کہ معاملے کی حساسیت اور نوعیت معمولی نہیں۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جائے وقوعہ کے قریب سے ہی ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ زیرِ حراست فرد سے پوچھ گچھ جاری ہے، تاہم اس کی شناخت تاحال خفیہ رکھی گئی ہے۔ فرانزک ٹیموں نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔
اسٹیمفورڈ ہل کے رہائشیوں کے لیے یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب علاقے میں پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ مقامی رضاکار سیکیورٹی گروپ ‘شومرم’ نے ایک مختصر بیان میں شہریوں کو چوکنا رہنے کی ہدایت کی ہے۔
گروپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "ہم گلیوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔” انہوں نے تفتیش کے حساس مرحلے کا حوالہ دیتے ہوئے واقعے کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
یہ حملہ شمالی لندن میں سیکیورٹی کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کی تازہ کڑی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران یہودی تنظیموں نے علاقے میں ہراساں کیے جانے اور پرتشدد واقعات میں اضافے پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پولیس اس وقت مرکزی شاہراہ پر موجود کاروباری مراکز کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے۔ حکام نے ان عینی شاہدین سے بھی رابطے کی اپیل کی ہے جو حملے کے وقت وہاں موجود تھے۔
اسٹیمفورڈ ہل میں پولیس کی بھاری نفری تاحال تعینات ہے۔ تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص سے ابتدائی پوچھ گچھ مکمل ہونے کے بعد ہی حملے کے اصل محرکات اور پسِ پردہ حقائق واضح ہو سکیں گے۔
