نیشنل اکاؤنٹ ایبلٹی بیورو (نیب) کے چیئرمین نے تصدیق کی ہے کہ انٹرپول نے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور ان کے بیٹے احمد علی ریاض کے خلاف ‘ریڈ نوٹسز’ جاری کر دیے ہیں۔ اس اقدام نے ملک کے سب سے بڑے رئیل اسٹیٹ ڈویلپر کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے، جس کے بعد اب یہ دونوں افراد دنیا بھر کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے لیے مطلوب قرار پائے ہیں۔
یہ پیش رفت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس کے دوران سامنے آئی۔ نیب حکام کے مطابق، یہ فیصلہ ملزمان کی جانب سے بدعنوانی کے متعدد ہائی پروفائل کیسز میں تفتیشی ٹیموں کے سامنے پیش نہ ہونے کے بعد کیا گیا۔ نیب حکام برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کے ساتھ 190 ملین پاؤنڈ کے تصفیے کے کیس میں ان دونوں کی حوالگی کے لیے کوشاں ہیں۔
کئی ماہ سے جاری قانونی کارروائی اس وقت تعطل کا شکار تھی جب دونوں ملزمان بیرون ملک مقیم رہے۔ ریڈ نوٹسز کے حصول کے ذریعے پاکستانی حکام مقامی دائرہ اختیار کی حدود کو پار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ملزمان پر وطن واپسی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ اگرچہ ریڈ نوٹس براہِ راست بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ کسی ملک کو گرفتاری کا پابند بناتا ہے، لیکن یہ دنیا کے 196 رکن ممالک کی پولیس کو خبردار کرنے کے لیے ایک طاقتور ٹول ہے کہ یہ افراد قانونی کارروائی کے لیے مطلوب ہیں۔
یہ کیس 2019 میں ملک ریاض کی فرم اور برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے درمیان ہونے والے تصفیے سے جڑا ہے۔ اس ڈیل کے تحت این سی اے نے ٹائیکون کے اکاؤنٹس سے 190 ملین پاؤنڈ ضبط کیے تھے، جو بعد ازاں پاکستان منتقل کر دیے گئے۔ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب نیب نے الزام لگایا کہ یہ رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے پراپرٹی فرم کی جانب سے ریاست کو ادا کی جانے والی ایک الگ ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے استعمال کی گئی۔
ماہرین قانون کا ماننا ہے کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے اس بڑے نام کی قانونی پیچیدگیوں سے نکلنے کی صلاحیت ہمیشہ سے سوالیہ نشان رہی ہے، تاہم تازہ ترین پیش رفت بتاتی ہے کہ تفتیشی ادارے اب اس ‘استثنیٰ’ کو توڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔
نیب اس وقت وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر بین الاقوامی شراکت داروں سے رابطے میں ہے۔ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس اقدام سے فوری گرفتاری ممکن ہو سکے گی یا نہیں، کیونکہ حوالگی کا عمل انتہائی طویل اور ان ممالک کے اپنے قانونی ڈھانچے کا مرہونِ منت ہے جہاں یہ ملزمان اس وقت مقیم ہیں۔
اس اقدام نے ملک ریاض کو ایک ایسے کونے میں دھکیل دیا ہے جس کا سامنا انہیں ماضی میں نہیں کرنا پڑا۔ اب وہ صرف ایک مقامی قانونی جنگ نہیں لڑ رہے، بلکہ بین الاقوامی قانون کی نظر میں ایک مطلوبہ شخصیت بن چکے ہیں۔
