کولمبو: سری لنکا کی حکومت نے قومی کرکٹ بورڈ کے معاملات میں عارضی مداخلت کرتے ہوئے اس کے انتظامی اختیارات اپنے کنٹرول میں لینے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد ملک میں کرکٹ گورننس، سیاسی مداخلت اور بین الاقوامی پابندیوں پر ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ یہ قدم سری لنکا کی 2023 ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی کے فوراً بعد اٹھایا گیا، جب کھیلوں کے وزیر روشن رانا سنگھے نے سری لنکا کرکٹ (SLC) کی انتظامیہ کو برطرف کر کے سابق کپتان ارجنا راناٹنگا کی سربراہی میں ایک عبوری کمیٹی مقرر کی۔
حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ اقدام مستقل قبضہ نہیں بلکہ ایک عارضی انتظامی قدم ہے، جس کا مقصد بورڈ میں اصلاحات، احتساب اور دیرینہ انتظامی مسائل کو قابو میں لانا ہے۔ لیکن معاملہ اتنا سیدھا نہیں رہا۔ بورڈ کے صدر شمی سلوا نے حکومتی فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا، جس کے بعد سری لنکا کی کورٹ آف اپیل نے عبوری کمیٹی اور متعلقہ گزٹ نوٹیفکیشن کو وقتی طور پر معطل کر دیا۔ یوں حکومت اور بورڈ کے درمیان اختیار کی کشمکش کھل کر سامنے آ گئی۔
اصل بحران کی جڑ سری لنکا کی ورلڈ کپ مہم بنی، جہاں ٹیم نو میچوں میں صرف دو فتوحات کے ساتھ شدید دباؤ میں آ گئی تھی۔ اسی خراب کارکردگی کے بعد پارلیمان، میڈیا اور سابق کھلاڑیوں کی جانب سے بورڈ پر سخت تنقید ہوئی۔ حکومت نے اسے محض کھیل کا مسئلہ نہیں بلکہ انتظامی ناکامی اور بدانتظامی کا کیس قرار دیا۔
تاہم اس حکومتی مداخلت کے بین الاقوامی اثرات بھی فوری سامنے آئے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے 10 نومبر 2023 کو سری لنکا کرکٹ کی رکنیت معطل کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ اپنے معاملات خودمختاری سے چلانے میں ناکام رہا اور اس کی گورننس، ضابطہ بندی یا انتظام میں حکومتی مداخلت پائی گئی۔ آئی سی سی کے مطابق یہی وہ بنیادی اصول ہے جس پر رکن ممالک کی کرکٹ باڈیز کو قائم رہنا ہوتا ہے۔
سری لنکا کرکٹ نے بعد میں اپنے ردعمل میں کہا کہ آئی سی سی کی معطلی اس وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب تک وزیرِ کھیل کی مقرر کردہ عبوری کمیٹی کا معاملہ موجود رہے، کیونکہ آئی سی سی اسے سیاسی مداخلت سمجھتی ہے۔ اس بیان نے واضح کر دیا کہ مقامی سطح پر شروع ہونے والا انتظامی تنازع بین الاقوامی سطح پر سری لنکا کے کرکٹ مفادات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اس سارے تنازع نے ایک پرانا سوال پھر زندہ کر دیا: کیا حکومت بدعنوانی یا بدانتظامی کے الزام میں کھیلوں کے اداروں میں مداخلت کر سکتی ہے، یا پھر ایسا قدم کھیل کی خودمختاری کو تباہ کر دیتا ہے؟ سری لنکا میں اس وقت یہی بحث مرکزی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔ ایک طرف عوامی غصہ تھا، دوسری طرف آئی سی سی کے قواعد۔ اور سچ یہ ہے کہ دونوں کے درمیان راستہ نکالنا آسان نہیں تھا۔
فوری طور پر یہ معاملہ صرف ایک بورڈ کی تبدیلی نہیں بلکہ سری لنکن کرکٹ کے انتظامی ڈھانچے، اس کی ساکھ اور عالمی کرکٹ میں اس کی پوزیشن کا امتحان بن گیا۔ آنے والے دنوں میں اصل سوال یہ تھا کہ آیا کولمبو اصلاحات اور خودمختاری کے درمیان کوئی قابلِ قبول توازن پیدا کر پاتا ہے یا نہیں۔
