امریکہ میں ریگولر گیسولین کی اوسط قیمت آج صبح 3.58 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی—صرف چار دنوں میں 12 سینٹ کا یہ بڑا اضافہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ کیلیفورنیا سے نیویارک تک، امریکی شہری پیٹرول پمپوں پر اس عالمی بحران کی تپش شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔
قیمتوں میں یہ حالیہ اچھال محض رسد اور طلب کا معاملہ نہیں بلکہ مارکیٹ میں پھیلا ہوا "خوف” ہے۔ عالمی تاجر اب اس خطرے کو مدنظر رکھ کر قیمتیں طے کر رہے ہیں کہ کہیں آبنائے ہرمز—جہاں سے دنیا کے مجموعی تیل کی کھپت کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے—بند نہ ہو جائے یا وہاں نقل و حمل محدود نہ کر دی جائے۔ جب بھی اس تزویراتی بحری گزرگاہ پر حالات خراب ہوتے ہیں، عالمی توانائی کی منڈی کو فوری طور پر جھٹکا لگتا ہے۔
اسٹریٹوس کیپیٹل کی سینئر انرجی تجزیہ کار سارہ ملر نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: "ہم دیکھ رہے ہیں کہ خام تیل کے ہر بیرل کی قیمت میں ‘رسک پریمیم’ شامل کیا جا رہا ہے۔ مارکیٹ غیر یقینی صورتحال کو پسند نہیں کرتی، اور فی الحال یہ واضح نہیں کہ یہ تنازع کس حد تک پھیلے گا۔”
امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت گزشتہ روز 86 ڈالر فی بیرل کے قریب رہی، جو محض ایک ہفتہ قبل 80 ڈالر تھی۔ اس صورتحال نے ریفائنریوں کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ وہ خام تیل مہنگے داموں خرید رہے ہیں، اور یہ اضافی لاگت صارفین تک معمول سے زیادہ تیزی سے پہنچ رہی ہے کیونکہ اس وقت گیس اسٹیشنوں کے پاس پیٹرول کا ذخیرہ گزشتہ موسمِ گرما کے مقابلے میں کافی کم ہے۔
وائٹ ہاؤس پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ہنگامی حالات کے لیے محفوظ کردہ ‘اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو’ سے تیل مارکیٹ میں لائے، تاہم انتظامیہ فی الحال ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں حالیہ اضافہ تیل کی جسمانی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ جغرافیائی سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ ہے۔ دوسری جانب، سیاسی مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر قیمتیں 4 ڈالر فی گیلن کی حد کی طرف بڑھیں تو صدر بائیڈن کو انتخابات سے قبل عوامی غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے ہر صورت مداخلت کرنی پڑے گی۔
عام امریکی گھرانوں کے لیے اس کا مطلب ماہانہ بجٹ میں فوری کٹوتی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات زیادہ تر خاندانوں کا دوسرا بڑا خرچہ ہیں، اور اس اچانک اتار چڑھاؤ نے صارفین کو اپنا طرزِ عمل بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ کئی علاقوں میں پیٹرول پمپ مالکان نے رپورٹ کیا ہے کہ صارفین اب ‘پریمیم’ ایندھن کے بجائے ‘ریگولر’ کو ترجیح دے رہے ہیں یا غیر ضروری سفر سے گریز کر رہے ہیں۔
صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔ اگر سفارتی کوششیں مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ کم کرنے میں ناکام رہیں، تو تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتوں میں حالیہ اضافہ تو محض ایک شروعات ہے۔ جب تک خلیج فارس میں تیل بردار جہازوں کو محفوظ راستہ نہیں مل جاتا، پیٹرول کی قیمتوں میں استحکام کی امید کم ہی دکھائی دیتی ہے۔
