واحدت پولٹری فارم لمیٹڈ کے ابتدائی عوامی شیئر اجراء، یعنی آئی پی او، کو ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی ملی ہے۔ بک بلڈنگ مرحلے میں طلب پیش کردہ حصص سے تقریباً پانچ گنا زیادہ رہی، جس کے بعد کمپنی کے حصص کی اسٹرائیک پرائس 18 روپے فی شیئر مقرر کی گئی۔ یہ قیمت طے شدہ 12 سے 18 روپے کے بینڈ کی بالائی حد پر نکلی، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی خاصی مضبوط رہی۔
کمپنی مجموعی طور پر 5 کروڑ 31 لاکھ 2 ہزار 350 عام حصص پیش کر رہی ہے۔ ان میں 5 کروڑ نئے شیئرز شامل ہیں، جبکہ 31 لاکھ 2 ہزار 350 شیئرز ایک موجودہ شیئرہولڈر کی جانب سے فروخت کے لیے رکھے گئے ہیں۔ یہ مجموعی پیشکش کمپنی کے پوسٹ آئی پی او ادا شدہ سرمائے کے 15.84 فیصد کے برابر بنتی ہے۔ اس اجراء کے ڈھانچے کے مطابق 70 فیصد حصص بک بلڈنگ کے ذریعے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور ہائی نیٹ ورتھ افراد کے لیے مختص تھے، جبکہ باقی 30 فیصد عام سرمایہ کاروں کے لیے رکھے گئے ہیں۔
قیمت کے تعین نے اس آئی پی او کی مجموعی مالیت کو بھی نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔ ابتدا میں 12 روپے کے فلور پرائس پر اندازہ تھا کہ کمپنی نئے شیئرز کے ذریعے تقریباً 63 کروڑ 70 لاکھ روپے حاصل کرے گی، مگر 18 روپے کی حتمی قیمت نے اس پیشکش کی مجموعی قدر کو بڑھا کر تقریباً 95 کروڑ 58 لاکھ روپے تک پہنچا دیا۔ یوں یہ صرف کامیاب بک بلڈنگ نہیں بلکہ کمپنی کے لیے توقع سے کہیں بہتر مالی نتیجہ بھی ہے۔
واحدت پولٹری اس سرمایہ کاری کو اپنے کاروبار کی توسیع کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ پہلے سے جاری معلومات کے مطابق کمپنی پیداوار میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ویلیو ایڈڈ ایگ پروڈکٹس کے شعبے میں بھی قدم بڑھا رہی ہے، جس میں ایگ پروسیسنگ پلانٹ کا منصوبہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کمپنی کے پاس اس وقت چار خودکار لیئر فارمز موجود ہیں، جن کی مجموعی گنجائش تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار پرندوں تک ہے، جبکہ یومیہ پیداوار 4 لاکھ انڈوں تک بتائی گئی ہے۔
مارکیٹ کے نقطۂ نظر سے بھی یہ پیش رفت اہم ہے۔ مقامی مالیاتی رپورٹنگ کے مطابق واحدت پولٹری کا آئی پی او رواں مالی سال میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر آنے والی آٹھویں لسٹنگ ہے۔ ایسے وقت میں جب سرمایہ کار عمومی طور پر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، ایک پولٹری کمپنی کے آئی پی او کو اس درجے کی اوورسبسکرپشن ملنا خاصی معنی خیز بات ہے۔ اس سے یہ تاثر ضرور مضبوط ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں نئی فہرست بندیوں کے لیے گنجائش موجود ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جو روزمرہ صارفین سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے شیڈول کے مطابق بک بلڈنگ 20 اور 21 اپریل 2026 کو ہوئی، جبکہ عوامی سبسکرپشن 27 اور 28 اپریل 2026 کو ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریٹیل سرمایہ کاروں کے پاس ابھی بھی اس پیشکش میں حصہ لینے کا موقع موجود ہے، لیکن اب ان کے سامنے ایک واضح اشارہ بھی آ چکا ہے کہ ادارہ جاتی سرمایہ کار اس آئی پی او میں بھرپور دلچسپی لے چکے ہیں۔
وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واحدت پولٹری کا یہ آئی پی او صرف ایک کمپنی کی کامیاب فنڈ ریزنگ کی کہانی نہیں۔ یہ پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کے لیے بھی ایک اشارہ ہے کہ اگر کاروباری ماڈل واضح ہو، توسیعی منصوبہ ٹھوس ہو، اور قیمت کا تعین مناسب انداز میں کیا جائے، تو سرمایہ کار اب بھی نئے مواقع پر بھرپور ردعمل دے سکتے ہیں۔
