کولمبو، 5 اپریل 2025 — بھارت نے سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقات میں ٹرنکومالی کو علاقائی توانائی مرکز بنانے کے منصوبے کو نمایاں طور پر آگے بڑھایا۔ اس پیش رفت کا مرکزی نکتہ بھارت، سری لنکا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایک سہ فریقی مفاہمتی یادداشت تھی، جس کا مقصد سری لنکا کے مشرقی ساحلی شہر ٹرنکومالی کو توانائی کے ایک اہم علاقائی مرکز کے طور پر تیار کرنا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مشترکہ پریس بیان میں کہا کہ دونوں ممالک ٹرنکومالی کو توانائی مرکز کے طور پر ترقی دینے اور ایک ملٹی پروڈکٹ پائپ لائن قائم کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس کے ساتھ بجلی کے باہمی گرڈ رابطے کے معاہدے اور سمپور سولر پاور پراجیکٹ کا بھی ذکر کیا، جسے سری لنکا کی توانائی سلامتی کے لیے اہم قدم قرار دیا گیا۔
سری لنکا کے صدارتی دفتر کے مطابق، مودی کے دورۂ کولمبو کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سات مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ ہوا، جن میں توانائی، دفاع، صحت، ڈیجیٹلائزیشن اور ترقیاتی شعبے شامل تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ٹرنکومالی کا منصوبہ محض ایک الگ توانائی اقدام نہیں بلکہ بھارت اور سری لنکا کے تعلقات کے وسیع تر فریم ورک کا حصہ ہے۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، اس سہ فریقی معاہدے پر یو اے ای کی وزارتِ سرمایہ کاری، بھارت کی وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس، اور سری لنکا کی وزارتِ توانائی نے دستخط کیے۔ معاہدے کا مقصد سری لنکا کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانا اور ٹرنکومالی کو اس خطے کے لیے ایک اسٹریٹجک توانائی مرکز میں بدلنا ہے۔
اس منصوبے کی اہمیت صرف اقتصادی نہیں، اس کا واضح جغرافیائی سیاسی پہلو بھی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، مودی کے دورے کے دوران طے پانے والے دفاعی اور توانائی معاہدوں کو خطے میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب نئی دہلی سری لنکا میں چین کی موجودگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ سری لنکا بحری تجارت کے ایک نہایت اہم راستے پر واقع ہے، اور ٹرنکومالی اپنی قدرتی بندرگاہ اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی تاریخی اہمیت کے باعث طویل عرصے سے اسٹریٹجک توجہ کا مرکز رہا ہے۔
تاہم اس پیش رفت پر سری لنکا کے اندر مکمل اتفاق رائے دکھائی نہیں دیتا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق، مودی کے دورے کے دوران کولمبو میں احتجاج بھی ہوئے، جہاں بعض ناقدین نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ بھارتی مفادات کے لیے بہت زیادہ جگہ دے رہی ہے۔ یوں توانائی تعاون کے ساتھ ساتھ خودمختاری، غیر ملکی اثر و رسوخ اور داخلی سیاسی حساسیت کے سوال بھی اس معاملے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
بھارت کے لیے یہ معاملہ محض سفارتی تعلقات کا نہیں بلکہ ایک وسیع تر علاقائی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ 2022 کے معاشی بحران کے بعد نئی دہلی نے سری لنکا کو امداد، ایندھن اور مختلف معاشی سہولتیں فراہم کیں، اور اب وہ اسی تعاون کو دیرپا توانائی، رابطہ کاری اور انفراسٹرکچر شراکت میں تبدیل کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ٹرنکومالی ہب، سمپور سولر منصوبہ، اور پاور گرڈ رابطہ — یہ سب مل کر ایک ایسے فریم ورک کی تشکیل کرتے ہیں جس میں سری لنکا کو جنوبی ایشیا اور بحرِ ہند کے توانائی نقشے میں زیادہ نمایاں مقام دیا جا سکے۔
مختصراً، صدر ڈسانائیکے کے ساتھ ملاقات میں بھارت کی ترجیح صاف نظر آئی: سری لنکا کے ساتھ توانائی، بندرگاہی اہمیت اور علاقائی رابطے کو ایک ہی حکمت عملی میں باندھ کر ٹرنکومالی کو آئندہ برسوں میں ایک ایسے مرکز میں تبدیل کرنا، جو صرف سری لنکا ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی توانائی سیاست پر اثر ڈال سکے۔
