کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ہفتے کے روز تصدیق کی ہے کہ حکومت نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر ادا کر دیے ہیں۔ یہ ادائیگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک پہلے ہی بیرونی مالی دباؤ، قرض ادائیگیوں اور زرمبادلہ ذخائر کے اتار چڑھاؤ سے نمٹ رہا ہے۔
یہ رقم اس بڑے دباؤ کا حصہ سمجھی جا رہی ہے جس کا پاکستان کو اپریل 2026 میں سامنا تھا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے مجموعی طور پر 3.5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس میچور ہو رہے تھے، جن میں سے 2 ارب ڈالر کی ادائیگی اب ہو چکی ہے، جبکہ باقی رقوم کے بارے میں بھی مالی منڈیوں میں نگرانی جاری ہے۔
ادائیگی کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 10 اپریل 2026 کو مرکزی بینک کے پاس خالص زرمبادلہ ذخائر تقریباً 15.08 ارب ڈالر رہ گئے تھے، جبکہ اس سے ایک ہفتہ پہلے یہ سطح 16.40 ارب ڈالر تھی۔ مجموعی مائع زرِمبادلہ ذخائر بھی اسی مدت میں کم ہوئے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ حقیقی ہے، محض قیاس آرائی نہیں۔
تاہم حکومت کے لیے ایک وقتی سہارا سعودی عرب کی جانب سے آنے والی مالی معاونت بنی۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کی مالی سہولت حاصل کی ہے، جس کا مقصد زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینا اور متحدہ عرب امارات کو کی جانے والی ادائیگی کے اثرات کو کسی حد تک متوازن کرنا ہے۔
یہ پیش رفت ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لاتی ہے کہ پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن اب بھی دوست ممالک کے ڈپازٹس، رول اوورز اور ہنگامی مالی تعاون پر کافی حد تک انحصار کرتی ہے۔ بظاہر فوری بحران کو ٹالا جا سکتا ہے، مگر بنیادی مسئلہ اب بھی وہی ہے: ادائیگیوں کی ضروریات زیادہ ہیں اور پائیدار زرِمبادلہ گنجائش ابھی مضبوط نہیں ہوئی۔
اب اگلی اہم چیز اسٹیٹ بینک کے آئندہ ذخائر کے اعداد و شمار ہوں گے۔ وہی واضح کریں گے کہ سعودی معاونت نے متحدہ عرب امارات کو کی گئی ادائیگی کا کتنا بوجھ کم کیا، اور آیا پاکستان نے واقعی وقتی دباؤ سنبھال لیا ہے یا نہیں۔
